لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ۔۔۔ حکومت پاکستان نے اعلان کر دیا ،قوم خوشی سے نہال

کراچی (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی میں آج(اتوار) سے کوئی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسدعمر نے کہا کہ بن قاسم میں ایک سے زیادہ ایندھن سے چلنے والے کے-الیکٹرک کے کچھ یونٹس فرنس آئل سے چلائے جائیں گے اور پیٹرولیم ڈویژن نے

فرنس آئل کی سپلائی کو بڑھادیا ہے ان کے پاس اس وقت پہلے سے زیادہ فرنس آئل آرہا ہے اور اس سپلائی میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ میں ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان فیصلوں سے کہیں یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی غلطی تھی تو ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سیکٹر کا ریگولیٹر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) ہے اور گزشتہ روز نیپرا نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے عوامی سماعت بھی مکمل کی ہے جبکہ چیئرمین نیپرا آج (11 جولائی کو)اجلاس میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ میں کس کی غلطی سے اضافہ ہوا اس حوالے سے علیحدہ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ آج ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ کراچی کے اندر غیر معمولی اور اعلانیہ کے علاوہ جو غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اسے فی الفور کیسے ختم کرایا جاسکتا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے کے-الیکٹرک کو گیس سپلائی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور فرنس آئل کی سپلائی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں اقدامات کے بعد کل سے کراچی میں کوئی بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی تین چوتھائی آبادی پر مشتمل علاقے ہیں جہاں پہلے اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تھی ان علاقوں میں اب وہی صورتحال بحال کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہاکہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات

ہے ایک طرف پاکستان کے اندر بجلی کی پیداوار کے اضافے کے لیے اربوں ڈالرز کے کنٹریکٹس پر دستخط کیے جارہے تھے لیکن ساتھ ساتھ ہی یہ فیصلے نہیں کیے گئے کہ اس بجلی سے باقی پاکستان کی طرح کراچی کیسے مستفید ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ 2021 کی گرمیوں سے پہلے کراچی کو 550 میگاواٹ اضافی بجلی مہیا کی جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے سال کی گرمیوں سے قبل کراچی میں بجلی کی فراہمی میں 18 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے اگلے سال یعنی 2022 کی گرمیوں سے پہلے کراچی کو بجلی کی سپلائی میں مزید 800 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا جس کا مطلب ہے کہ 2021 میں 550 میگاواٹ اور اس سے اگلے سال 800 میگاواٹ کے اضافے کے ساتھ 2022 تک مجموعی طور پر کراچی میں بجلی کی فراہمی میں 1350 میگاواٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ان میں سے 90 فیصد اضافے کے فیصلے ہوچکے ہیں، کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی اور کابینہ کی جانب سے منظوری بھی دی جاچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ 2023 کی گرمیوں سے پہلے کراچی میں بجلی کی فراہمی میں مزید 800 میگاواٹ کا اضافہ کیا جائے گا یعنی 2023 کی گرمیوں سے پہلے مجموعی طور پر 2150 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا

جو کراچی کو اس وقت فراہم کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں 70 گنا اضافہ ہوگا۔اسد عمر نے کہا کہ یہ تمام فیصلے اس سوچ کے ساتھ کیے گئے کہ کے-الیکٹرک ایک نجی ادارہ ضرور ہے اور کراچی کے بجلی کے نظام میں پچھلی حکومتوں میں نجکاری ضرور کی ہے لیکن کراچی الیکٹرک کی نجکاری کی گئی ہے کراچی کی نجکاری نہیں ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کے عوام کی ذمہ داری جو پاکستان کے وفاق کے اوپر ہے اس ذمہ داری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اس سوچ کے حوالے سے جو فیصلے کیے گئے ہیں ان سے آگاہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید پیشرفت سے عوام کو وقتا فوقتا آگاہ کیا جاتا رہے گا۔اسد عمر نے کہا کہ کے-الیکٹرک کے منیجنگ ڈائریکٹر یہاں موجود ہے اور آج کے اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسمعیل اور میں نے یہ پیغام دیا ہے کہ کراچی کے عوام کے مسائل کے حل میں بھرپور مدد کی جائے گی لیکن اگر اس تمام مدد کے باوجود اگر عوام کے بجلی کے مسائل حل نہیں کرپائے تو ہم دوسری طرف نہیں دیکھیں گے اور قانون کی پوری طاقت استعمال کریں گے تاکہ کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیپرا کو اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرنے میں وفاق سے کوئی مدد چاہیے تو وفاق مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *