قیام پاکستان سے 14 سال پہلے حضرت محمد ؐ نے قائداعظم محمد علی جناح کے خواب میں آکر انہیں کیا حکم دیا تھا ؟ پاکستان کی بقاء کے حوالے سے تمام شبہات دور کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) برِصغیر کے بہت بڑے عالمِ دین علامہ شبیر احمد عثمانی قائداعظم ؒ کے قریبی دوست تھے،انہوں نے ہی قائداعظمؒ کی نماز جنازہ بھی پڑھائی تھی۔انہوں نے بتایا کہ قائداعظم ؒ 1934 میں انگلینڈ میں تھے اور ایک روز اچانک واپس کراچی آگئے۔ان کے قریبی ساتھیوں بشمول لیاقت علی خاں بھی آپ کی اچانک آمد پر حیران تھے،نامور مضمون نگار

شہر یار اصغر مرزا اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم ؒ سے پوچھا کہ آپ اچانک کس کے کہنے پر تشریف لائے ہیں تو انہوں کہا کہ میں ایک شرط پر آپ کو بتاؤنگا کہ آپ میری زندگی میں کسی سے یہ بات نہیں کرینگے۔قائداعظم ؒ نے بتایا کہ میں ایک رات انگلینڈ میں سویا ہو اتھا کہ اچانک میرا بیڈ ہلنا شروع ہو گیا، میں کچھ دیر بعد دوبارہ سوگیا۔تھوڑی دیر بعد زیادہ زور سے بیڈ ہلاتو میں سمجھاکہ زلزلہ کا جھٹکا ہے، میں نے باہر جاکر دیکھا تو سب لوگ سورہے تھے کیونکہ یہ زلزلہ نہیں تھا تیسری بار پھر زور دار جھٹکا محسوس ہوا تو میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔قائد اعظمؒ نے دیکھا کہ اُن کے سامنے ایک شخصیت کھڑی ہے۔قائداعظم ؒ نے پوچھا ” آپ کون ہیں ” تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں آپ کا پیغمبرِ خدا حضرت محمد ﷺ ہوں، آپﷺ نے انگریزی میں فرمایا ” ترجمہ (آپ فوری طور پر برِ صغیر جائیں جہاں آپ کی اشد ضرورت ہے،آپ بالکل پریشان نہ ہوں، انشاء اللہ آپ اپنے مشن میں کامیاب رہیں گے)” ایلن علی سے یہ واقع سننے کے بعد تحریک ِ آزادی کے تمام واقعات پر غور کیا جائے تو قدم قدم پر تائیدایزدی کی علامات نظر ا ٓتی ہیں۔ قائداعظم ؒ کس کس طرح کے مسائل سے بخوبی گزرتے رہے اور کیسے کوئی غیر مرئی قوت سایہ بن کر آپ کے ساتھ رہی، اہل ِ ایمان اسے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح کے سگنل برِ صغیر میں علماء وشائخ عظام کو بھی ملتے رہے ہوں گے، جو قائداعظم ؒ کے ساتھ شانہ بشانہ شریک رہے۔ پاکستان کو تائیدخداوندی حاصل ہے اس لئے اس کے تمام حاسدین ملیا میٹ کر دیئے گئے اور آئندہ بھی تباہ و برباد ہوتے رہیں گے۔ اللہ کریم نے اس کی حفاظت کیلئے اسے ایٹمی قوت بنا کر تمام دشمنوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *