ایمبولینس کا سائرن مختلف کیوں ہوتا ہے؟ ایمبولینس کے بارے میں 5 حیرت انگیز باتیں جو زیادہ تر لوگ نہیں جانتے

سڑکوں پر تیزی سے بھاگتی ایمبولینس اپنے آپ میں ایک انوکھی گاڑی ہے۔ ایمبولینس ایک جان بچانے والی گاڑی ہے جو مریضوں کو اسپتال پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ اس گاڑی کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ سڑک پر تیزی سے چلے تو بڑے سے بڑا ٹرک بھی کنارے پر ہو کر ایمبولینس کو راستہ دینے لگتا ہے۔ اس طرح راستہ

دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے ایمبولینس میں موجود مریض کو جلد سے جلد اسپتال پہنچایا جاسکے۔ ایمبولینس کا لفظ، لاطینی زبان کے ‘ambulare’ سے نکلا ہے جس کا مطلب “منتقل کرنا“ ہے۔ ایمبولینس کے متعلق ایسی بہت سی باتیں ہیں جنھیں عام انسان نہیں جانتا اس لئے آج ہم ان باتوں پر روشنی ڈالیں گے تاکہ “ہماری ویب“ کے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوسکے اکثر ایمبولینس کے سائرن کی آواز مختلف ہوتی ہے لیکن سب کا سائرن کافی تیز آواز میں ہوتا ہے۔ ایمبولینس کے سائرن کی آواز جتنی بھی مختلف ہو لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے یعنی “راستہ دو“۔ اگر ایمبولینس کسی مریض کو اسپتال یا گھر لے جارہی ہے تو سائرن بجے گا لیکن اگر ایمبولینس خالی ہے تو اس میں سائرن نہیں بجے گا ایمبولینس کے اوپر زیادہ تر لال لائٹس ہوتی ہیں اور اکثر سفید یا نیلی بھی ہوتی ہیں۔ ان لائٹس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ راستے میں موجود ہونے والی گاڑیاں بھی لائٹ دیکھ کر یہ سمجھ جائیں کہ ایمبولینس ہے تو اسے راستہ دے دیں۔ کبھی کبھی ایمبولینس میں صرف لائٹ جلتی ہے اور سائرن نہیں بجتا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گاڑی میں مریض موجود ہے اور طی وجوہات

کی وجہ سے سائرن بجانے سے پرہیز کیا جارہا ہے البتہ اگر لائٹ اور سائرن دونوں بند ہوں تو اس کا مطلب گاڑی میں مریض موجود نہیں ہے یا پھر ڈیڈ باڈی ہے آپ نے دیکھا ہوگا کہ ڈاکٹرز کے فرسٹ ایڈ باکس سے لے کر کئی اسپتالوں کے بورڈز اور ایمبولینس پر پلس (+) کا سائن بنا ہوتا ہے۔ لیکن ہم اپنے قارئین کا بتاتے چلیں کہ یہ سائن پلس کا نہیں بلکہ کراس کا ہے جو کہ سوئس قومی پرچم سے مستعار لیا گیا ہے اور اس سائن کو وہی لوگ یا اسپتال استعمال کرسکتے ہیں جو ریڈ کراس مومنٹ کے رکن ہوں جو کہ قدرتی آفات اور انسانی فلاح و بہبود کی خدمت پر مامور ہے۔ کراس چونکہ عیسائی مذہب کی علامت ہے اس لئے مسلم معاشروں میں کراس کی جگہ (crescent) چاند استعمال کیا جاتا ہے ایمبولینس ایسی گاڑی ہوتی ہے جس پر مریض کو اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے سامنے کی جانب الٹے حروف میں ایمبولینس لکھا ہوتا ہے جس کی وجہ بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ ایمبولینس پر اس طرح لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ گاڑی مریض کو لے کر جارہی ہو تو آگے والی گاڑیاں اپنے سائیڈ مرر میں ایبولینس کے لفظ کو سیدھا پڑھ سکیں اور راستہ دے دیں دنیا میں ایمبولینس کا سب سے بڑا نظام “ایدھی ایمبولینس“ کے نام سے پاکستان میں ہے۔ اس نظام کو تشکیل دینے پاکستان کے نام ور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی صاحب تھے۔ اس ایمبولینس سسٹم کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے تحت دنیا میں س سے زیادہ گاڑیاں رکھنے کا ریکارڈ حاصل ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *