بریکنگ نیوز!!پاکستان میں پیٹرول فی لیٹر 175روپے تک پہنچ گیا

چملک کا وہ علاقہ جہاں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 175 روپے تک پہنچ گئی، بلوچستان کے ضلع چاغی میں پاکستانی پٹرول کی عدم دستیابی کے باعث ایرانی پٹرول کی مہنگے داموں فروخت جاری۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے اہم ضلع اور ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے چاغی میں فی لیٹر پٹرول 175 روپے کی قیمت میں فروخت

ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔بتایا گیا ہے کہ چاغی میں پاکستانی پٹرول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ضلع میں ایرانی پٹرول فروخت ہو رہا ہے، جس کی قیمت فی لیٹر 175روپے تک پہنچ گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ایرانی پٹرول کی فروخت غیر قانونی ہے تاہم پاکستانی پٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے بلوچستان کے کئی علاقوں خاص کر ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں ایرانی ڈیزل اور پٹرول کی فروخت معمول بن چکی۔واضح رہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جمعرات کو حکومت نے عید سے قبل ہی عوام پر پیٹرول بم گرا دیا اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 40 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں گذشتہ کئی ماہ سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اوگرا کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 11.40 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اوگرا کی سفارشات کے برعکس عوام کو حد درجہ ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 5.40 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی ۔وزیراعظم کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 2.54 روپے فی لیٹر، کیروسین کی قیمت میں 1.39 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 1.27 روپے فی لیٹر کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے تصدیق کی کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے ،ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 54 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی گئی ہے لائٹ ڈیزل کی قیمت ایک روپے 27 پیسے بڑھائی گئی ہے۔ ،معاون خصوصی کے مطابق اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 11.40 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی تھی، وزیراعظم نے اوگرا کی سفارشات کے برعکس عوام کو حد درجہ ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *