راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل! 2 ارب کا منصوبہ 60 ارب تک کیسے پہنچا؟ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک)محکمہ اینٹی کرپشن نے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کے ساتھ 2 ارب سے شروع ہونے والے منصوبے کو 60 ارب پہنچانے کی وجوہات بھی تلاش کرلی ہیں، جے آئی ٹی کے مطابق سابق کمشنر محمد محمود کے بیان اور وزیراعلیٰ پنجاب کی منظور کی گئی سمری میں تضاد پایا گیا ہے۔ راولپنڈی کے سابق کمشنر محمد محمود

نے غلط بیانی سے کام لیا اور ظاہر کیا کہ عہدیداران کو اس معاملے پر اعتماد میں لیا گیا ہے، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروجیکٹ نے سوسائٹی کے فائدے کیلئے 3 انٹرچینج تعمیر کر ائے، جن کی منظوری کمشنر راولپنڈی نے دی جبکہ ان علاقوں میں سروس روڈ تعمیر کرائے گئے جہاں آبادی شروع بھی نہیں ہوئی۔اینٹی کرپشن پنجاب نے تحقیقاتی رپورٹ میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی، جن میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود، سابق لینڈ کنٹریکٹر آر ڈی اے وسیم علی، پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد عبداللہ شامل ہیں، محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں. واضح رہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد محمود اورلینڈ ایکوزیشن کمشنروسیم تابش کو گرفتارکرلیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب محمد گوہر نفیس نے میڈیا کو بتایا کہ حکومتی منظوری کے بغیر 2ارب60کروڑ روپے خرچ کیے گئے،رنگ روڈ کی الائنمنٹ میں تبدیلی سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو دانستہ طور فائدہ پہنچایا گیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کے مطابق منصوبے میں دانستہ طور پر نئے انٹرچینج شامل کیے گئے، لوکل ٹریفک کی انٹری کیلئے راستے کھول کرمخصوص عناصر کو فائدہ دیا گیا۔ لینڈ ایکوزیشن آفیسر وسیم تابش نے 12پراپرٹیز خریدیں جن میں ان کی مالیت 6 کروڑ ظاہر کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد محمود نے وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غلط تفصیلات سے آگاہ کیا۔ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کا مزید کہنا تھا کہ کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے عوام کو لوٹنے اور سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے متعلق معاملہ نیب کو بھجوا کر بڑے مگرمچھوں کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔مختلف عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلئے رنگ روڈ روالپنڈی کی الائنمنٹ اور روٹ کو بڑھایا گیا۔علاوہ ازیں ذرائع کے مطابقرنگ روڈ سکینڈل کی ابتدائی رپورٹ میں سیاسی شخصیات کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن سٹیبلشمنٹ پنجاب نے 21 ہزار صفحات کی چھان بین کی۔ذرائع کے مطابق یہ اہم رپورٹ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کی۔ اس رپورٹ میں ایک سو کے قریب افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس میں رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کرنا اور غیر قانونی ایوارڈ ہونا ثابت ہو گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کرنے کی منظوری صوبائی ڈویلپمنٹ بورڈ سے نہیں لی گئی تاہم سکینڈل کی ابتدائی رپورٹ میں سیاسی شخصیات کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں ہے۔رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تحقیقات نیب کرے گا۔ اینٹی کرپشن پنجاب نے پراجیکٹ ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6 رکنی جے آئی ٹی نے تحقیقات میں 21 ہزار صفحات کی جانچ پڑتال کی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا وزیراعلی پنجاب سے ہدایات لینے کا دعوی غلط ثابت ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے 5 نئی انٹر چینج تجویز کیں۔ رنگ روڈ منصوبے میں وزیراعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ منصوبے کی لاگت میں پی سی ون میں تبدیل کرنے سے 10 ارب کا اضافہ ہوا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *