بریکنگ نیوز: اللہ تعالیٰ نے کپتان کی انگلی پکڑ لی۔۔۔انتہائی مشکل حالات میں کتنے تیل و گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے؟ پاکستانیوں کو اب تک کی شاندار خبر سنا دی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چند دنوں میں ملک میں تیل و گیس کے کئی ذخائر دریافت کر لیے گئے، ایک ماہ میں 5 مختلف مقامات سے نئے ذخائر دریافت ہوئے، ذخائر کوہاٹ،شکردرہ اور سکھر کے قریبی علاقوں سے دریافت ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو ایک ماہ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی

ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ملک میں صرف ایک ماہ کے دوران توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تیل و گیس کے 5 نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔ذخائر خیبرپختونخواہ اور سندھ میں دریافت ہوئے۔ ذخائر کوہاٹ،شکردرہ اور سکھر کے قریبی علاقوں سے دریافت کیے گئے۔ ان ذخائر سے 1040 بیرل خام تیل،47 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ حاصل ہو رہی ہے۔ ان نئے دریافت شدہ ذخائر کو قومی سپلائی نیٹ ورک میں شامل کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کو مزید کچھ علاقوں سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی امید ہے۔ نئے ذخائر کی تلاش کیلئے ڈرلنگ کا کام جاری ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبرکے مطابق ایران نے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی حمایت کر دی، گوادر بندرگاہ توڑنے کا منصوبہ فلاپ کرنے کے بعد ایران سی پیک کا بھی پارٹنر بن گیا، تفصیلات کے مطابق ایران نے حیلے بہانوں پربھارت کو پراجیکٹ سے جدا کر کے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا، ایران اب چاہ بہار ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا، بھارت اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ 4 سال پہلے طے پایا تھا اور منصوبے کے تحت افغان سرحد پر چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن تعمیر ہونی تھی لیکن بھارت کی جانب سے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے اور فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی تاہم ایران یہ پراجیکٹ مارچ 2022 تک خود مکمل کرے گا۔اس اہم منصوبے سے بھارت کی علیحدگی کے بعد ایران نے پاک چین راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ سی پیک اور بی آر ائی خطے کی تقدیر بدل دیں گے، یہ منصوبے علاقائی ترقی خصوصاً پاکستان، چین اور ایران کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوں گے۔انہوں نے سی پیک اور بی آر آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی حمایت کا غیر معمولی اقدام تہران حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیل کا اہم اشارہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *