یا اللہ رحم ۔۔پاکستان بہت بڑے بحران کی زد میں آگیا۔بڑے پیمانے پر تباہی کاخطرہ۔۔ وارننگ جاری۔۔کیا ہونےوالاہے؟جانیے تفصیل

پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جسے اللّٰہ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے خواہ وہ چراگاہیں، ذرخیز زمینیں ہوں یا ریگستان، نخلستان ہوں یا پہاڑی سلسلے یا بڑے بڑے گلیشئیرز، اور سب سے بڑھ کر ہر قسم کے موسم، یہ بلاشبہ کسی نعمت سے کم نہیں۔انہی میں سے ایک نعمت پانی ہے، اکثر ہم نے

سُنا ہوگا کہ پانی زندگی ہے، اس جملے میں اس قدر گہرائی ہے کہ شاید ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے، پاکستان ان ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہے جس کے پاس پانی کے بڑے بڑے ذخائر ہیں لیکن اب یہ ذخائر گویا اپنے خاتمے کی طرف جارہے ہیں تبھی تو اِرسا( انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ صورتحال یہی رہی تو ممکن ہے کہ 2025ء تک ملک میں پانی کا شدید بحران ہوگا۔ پانی کا یہ مسئلہ نیا نہیں لیکن آہستہ آہستہ سنگین نوعیت اختیار کررہا ہے، ہم دنیا کے ان 36 ممالک میں شامل ہیں جہاں پانی کا سنگین بحران ہے۔دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے،علاوہ ازیں پاکستان کے24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے،اور صرف کراچی کی کچی آبادیوں میں رہنے والے 1 کروڑ 60 لاکھ گھروں میں پانی آتا ہی نہیں ہے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ افراد صاف پانی تک رسائی سے بھی محروم ہیں اوریہاں فی شخص سالانہ پانی کی دستیابی(1 ہزار کیوبک) میٹر سے بھی کم ہے،اگر یہ فی شخص سالانہ 500 کیوبک میڑ تک پہنچ جاتا ہےتو عین ممکن ہے کہ 2025 تک پانی کی قطعی کمی واقع ہوجائے۔پاکستان میں پانی کے بحران میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں ، جیسے شہری علاقوں میں آبادی

میں تیزی سے اضافہ ، زراعت ، پانی کے نظام کی بد انتظامی اور آب و ہوا(ماحولیاتی)میں تبدیلی۔ آبادی : آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے 2017میں یہاں آبادی 18 کروڑ تھی جو اب 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے،اس لحاظ سے 2025 تک پاکستان کی پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ ،جبکہ پانی کی فراہمی 191 ملین ایکڑ فٹ تک ہوسکتی ہے۔ زراعت: پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا انحصار بھی زراعت پر ہی ہے۔ پُرانے فرسودہ کاشتکاری کے رائج طریقہ کار کی وجہ سے فصلوں کی کاشت میں 95 فیصد ملک کا پانی استعمال ہوجاتا ہے جو نہایت سنگین ہے ،آبپاشی کے ناقص نظام کی وجہ سے 60 فیصد ملک کا پانی ضائع ہورہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی: ماحولیاتی تبدیلی بھی ملک میں پانی بحران کا اہم سبب ہے۔پاکستان بارش ،برف اور گلیشیئر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92 فیصد حصہ نیم بنجر ہے لہذا پاکستان اپنی پانی کی فراہمی کے لئے بارش پر منحصر ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے مٹی میں موجود پانی بھی تیزی سے بخارات بن کر سوکھ رہا ہے، جس سے فصلوں کے لئے پانی کی طلب میں بھی اور اضافہ ہورہا ہے۔واش واچ اورگنائزیشن کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق آزادی کے وقت پاکستان میں فی صد پانی کی قدار 5 ہزار چھ سو کیوبک میٹرز تھی جبکہ اب وہ کم ہو کر فی صدایک ہزار 17 کیوبک میٹرز رہ گئی ہے جوکہ ایک پریشان حد تک کم سطح ہے لگ بھگ ایک کروڑ 60 لاکھ لوگوں کے پاس گندا پانی پینے کے سوا اور کوئی چارا ہی نہیں ہے۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آرڈبلیو) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد اموات پیٹ کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں جس کی بنیادی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے۔ 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک ترقی پذیر ممالک میں پانی کی طلب 50 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق 2025 تک آدھے سے زائد دنیا پانی کی قلت اور کسی حد تک خشک سالی کا شکار ہوجا ئے گی، اس کا مطلب ہے کہ آدھی سے زائد دنیا پانی سے محروم ہو جائے گی۔پاکستان ریسرچ ان واٹر ریسورسس (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق ، 2005 میں پاکستان میں آبی قحط کی حد عبور کی جاچکی ہے ، دنیا کے سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں ہم چوتھے

نمبر پر ہیں جہاں پانی کے استعمال کی شرح خطرناک حد تک ہے جبکہ پانی کی شدت کی شرح (فی یونٹ جی ڈی پی میں استعمال ہونے والے پانی کی مقدار) پریشان کن ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ڈیموں کی قلت بھی ہے ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے، پاکستان پانی کا صرف10 فیصد ہی ذخیرہ کرپاتا ہے.ارسا پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا جبکہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے، پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔کیا یہ ہمارے لیے کافی ہے؟ سال 2017 میں ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کیلئے منگلا ڈیم کے حجم جتنے 3 مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی ۔پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات بھی کئے جائیں۔حکومتی اقدامات: 2017 میں حکومتِ پاکستان نے مقامی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دو ڈیموں کی تعمیر کے لئے 14 بلین ڈالر کے منصوبے کے لئے فنڈنگ میں مدد فراہم کریں، جس کے سبب ڈیم سے ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ رکھنا ممکن ہوسکے گا تبھی ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے پانی بچا سکتے ہیں۔اگرچہ عوام سمیت کئی پاکستانی مشہور شخصیات نے بھی ڈیم کے لئے چندہ دیا ہے ، لیکن اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے ابھی بھی بہت زیادہ رقم درکار ہے۔اسکے علاوہ پہلا قدم جو اٹھایا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ عوام کو حالات سے واقفیت کے لیے پروگرام اور پیغامات چلائے

جائیں جس سےعوام انفرادی طور پراس مسئلے کو سمجھیں اور پانی کے تحفظ کی پوری کوشش کر سکیں۔پاکستانی عوام کو صورتحال سے اچھی طرح آگاہ کیا جانا چاہئے ، تاکہ وہ ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ گیلن پانی کی بچت کرسکیں۔مزید برآں، ماہرین نے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور اس کے بے دریغ استعمال کو روکنے کیلئے نیشنل واٹرپالیسی کے مطابق واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دییتے ہوئے کہا کہ ہم تربیلا ڈیم جیسے پانچ بڑے ڈیمز جتنا پانی ضائع کر رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم کچھ کرنے کی ضرورت ہے، موقع کی نزاکت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے اور ہمیں چاہیے کہ انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کریں، ایسا نہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ہم خود اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرکے کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔میڈیا کو بھی چاہیے کہ پانی کے بحران کے حوالے سے آگاہی اور شعور فراہم کریں، اس لئے ضروری ہے کہ پانی کے بحران کے حوالے سے نیوز چینلز اور اخبارات میں اشتہارات چلائے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی آگاہی اور شعور ان کے گھر میں میسر ہو، ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں انفرادی طور پر اقدامات اٹھانے ہونگے حکومتی پالیسیوں کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا ہمیں زیب نہیں دیتا کیونکہ، کہیں یہ نہ ہو کہ کل ہمارے پاس ضرورت کے لیے بھی پانی دستیاب نہ ہو اور اسوقت جو ہمارے پاس رہ جائے گا وہ ہوگا پچھتاوا۔ (تحریر، مودّہ نجم الدّین)

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *