میرے جانے کے بعد 3 دن سے زیادہ افسوس نہیں منانا، اور والدین کا خیال رکھنا ۔۔۔ جانیں ان شہید جوانوں کی رلا دینے والی کہانیاں جن کے الفاظ آپ کی بھی آنکھوں میں آنسو لے آئیں گے

ویسے تو شہادت ایک ایسا رتبہ ہے جسے ہر کوئی پانے کی جسجتو میں رہتا ہے، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں پہلے ہی شہادت کا علم ہو جاتا ہے اور کئی پیدا ہی شہادت کے لیے ہوتے ہیں۔ آج پاکستانی فوج کے ان جانباز جوانوں کے بارے میں آپ کو بتائیں گے جنہوں نے شہادت کا رتبہ نا صرف حاصل کیا بلکہ انہیں شہادت کا علم

پہلے ہی ہو چکا تھا۔ سوا ات سے تعلق رکھنے والے بہادر سپوت ارتضٰی نے بچپن ہی میں شہادت کا خواب دیکھ لیا تھا، لیکن ارتضٰی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ خواب سچا ثابت ہوگا۔ سوات سے تعلق رکھنے والا یہ بہادر جوان بچپن ہی سے ہونہار تھا، پاکستان ائیر فورس میں نظر کمزور ہونے کے باعث سیلیکشن نہ ہو سکی۔ دراصل یہ شہادت کی راہ کی طرف جانے کے لیے ایک اور قدم تھا، جسے ارتضٰی نے بخوبی پورا کیا، والد کا اصرار تھا کہ تم اینجنئیرنگ کرلو، لیکن ارتضٰی بضد تھا کہ مجھے پاک فوج میں ہی جانا ہے، ارتضٰی کے اس جذبے نے اسے شہادت جسیے رتبے تک پہنچا دیا تھا۔ کاکول اکیڈمی سے گریجویٹ کرنے والے ارتضٰی کی تعیناتی رحیم یار خان میں ہوئی۔ ایک موقع پر والد سے بات کرتے ہوئے ارتضٰی شہید کافی اداس تھے، جس پر والد نے وجہ پوچھی۔ ارتضٰی نے کہا میرے روم میٹ نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ ارتضٰی کی اداسی نے والد کو بھی خاموش کر دیا تھا۔ شہادت والے دن سے ایک روز پہلے شہید جوان نے گھر والوں سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تھی مگر کیا معلوم تھا کہ یہ ملاقات آخری ملاقات ہوگی، اس

ملاقات کے بعد ارتضٰی شہید اب شہادت کے مربتے تک پہنچ جائے گا۔ شہادت والے دن دوران آپریشن ارتضٰی شہید کے ساتھی کا پاؤں بارودی سرنگ پر پڑ گیا جو کہ ارتضٰی عباس سمیت دیگر ساتھیوں کی شہادت کا باعث بنا، اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ جان پر کھیل جائیں گے مگر دشمن کو نہیں چھوڑیں گے۔ کیپٹن بلال ظفر شہید بھی ان شہید جوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس خیال کا اظہار اپنی ماں کے سامنے کیا تھا کہ ماں ایک دن پاک آرمی کے جوان میری لاش کو پاکستانی پرچم میں لے کر آپ کے پاس لائیں گے۔ جس پر ماں حیرت زدہ ہو کر کہنے لگیں کیا کہہ رہے ہو بلال؟ کیپٹن بلال شہید 4 بہنوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا، جنہوں نے سینٹ پول اسکول سے میٹرک کیا۔ کیپٹن بلال شہید کی والدہ بتاتی ہیں کہ بلال بہت ہی نرم گو اور ملنسار شخصیت کا مالک تھا، ہمیشہ مسکرا کر ہر بات کا جواب دیتا تھا۔ والدہ کا کہنا تھا کہ ایک دن بیٹی کے سسر نے فون کیا کہ ہم آج آپ کی طرف ناشتہ کرنے آرہے ہیں، جس پر میں نے سوچا کہ فوجی افسران تو اتوار کے روز گھر پر ہی ناشتہ کرتے ہیں پھر ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے بلال شہید کی ماں کی آواز میں نرمی آگئی اور وہ بیٹی کے سسر سے کہنے لگیں کہ سچ بتائیں کیا بلال شہید ہو گیا ہے؟ یہ جملہ تھا جسے ادا کرتے ہوئے خود بلال شہید کی والدہ بھی نرم ہوگئیں۔ بیٹی کے سسر نے کہا کہ بلال کو گولی لگی ہے اور سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔ والدہ کا کہنا ہے کہ بلال نے اپنی شہادت سے پہلے ہی سب کو بتا دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ کوئی سوگ نہیں کرے گا، میرے جانے کے بعد میرے

والدین کا خیال رکھنا اور میرے دفنانے کے چند روز میں ہی والدین کو گاؤں سے راولپنڈی لے آنا۔ کیپٹن بلال شہید کے والد کہتے ہیں کہ میں بطور والد بہت پریشان تھا کہ یہ لڑکا شہید ہوگا، خوشی بھی تھی مگر والد کا غم اپنی جگہ ہے۔ والد کہتے ہیں کہ شہادت سے ایک رات پہلے بلال نے یونیفارم تیار کر کے دیا تھا کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میرے کوفن کے ساتھ یہ یونیفارم بھی دینا۔ جبکہ بلال کے بھائی کا کہنا ہے کہ جس طرح بلال سب کاموں سے متعلق مجھے بتا رہا تھا اور آخری وصیت کر رہا تھا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بلال اب واپس نہیں آئے گا۔ شہادت کے جذبے سے چور بلال جب گھر واپس آیا تو بلال کے نام کے ساتھ شہادت کا خطاب بھی لگ چکا تھا، جو کہ بلال کی دلی خواہش تھا۔ کیپٹن روح اللہ کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے تھا، کیپٹن روح اللہ بھی ان شہید جوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شہادت سے متعلق پیشگی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔ کوئٹہ میں پولیس کوارٹرز پر حملے کے بعد دوران آپریشن کیپٹن روح اللہ شہید ہو گئے تھے، جبکہ شہادت کے دو ماہ بعد ہی کیپٹن روح اللہ کی شادی تھی۔ شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ روح اللہ نے پہلے ہی اپنی شہادت سے متعلق آگاہ کر دیا تھا، اور روح اللہ کی خواہش تھی کہ اسے شہادت کا اعلٰی رتبہ ملے، اور آج وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا ہے۔ کیپٹن روح اللہ سمیت کئی ایسے شہید جوان ہیں جو کہ اپنے پختہ ارادوں کی وجہ سے شہادت جیسے رتبہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد لڑ کر بھی ناکام ہو گئے اور شہید شہادت کا رتبہ پا کر کامیاب ہو گئے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *