ان سنا واقعہ سابق آرمی افسر کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔ ۔۔بریگیڈئر(ر) صولت رضا آج کل قومی اخبارات میں کالم نگاری کر رہے ہیں، ان کے کالموں کا مجموعہ ’’غیر فوجی کالم ‘‘شائع ہوچکا ہے، پچھلے دنوں اس پر چند ایک ریویوز بھی چھپے۔، صولت رضا صاحب کی ایک کتاب ’’کاکولیات‘‘کے بارے میں

بتایا جاتا ہے کہ اس کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے۔یہ کاکول اکیڈمی میں گزرے دنوں کی دلچسپ روداد ہے۔ہمارے ہاں جنرل ضیا کا امیج آج کل بہت منفی ہے اور میڈیا، سوشل میڈیا پر ضیا الحق کے بارے میں ایک سطر بھی مثبت لکھنا مشکل ہوگئی ہے۔ میری اپنی رائے بھی زیادہ اچھی نہیں۔ برگیڈیر صولت رضا کی رائے البتہ مختلف ہے۔اٹک سازش کیس کے ٹرائل کے دنوںمیں میجر جنرل ضیا الحق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے سربراہ تھے،انہی دنوںلیفٹننٹ صولت رضا کو انہوں نے کوئی کام بتایا جسے بخوبی احسن طریقے سے کر دیا گیا۔ کئی سال بعد جنرل ضیا بطور آرمی چیف پہلی بار کوئٹہ آئے تو وہاں سینئر افسروں کے جھرمٹ میں کھڑے کیپٹن صولت رضا کو دیکھ کر فورا پہچان گئے اور بڑے تپاک سے ملے۔سب حیران تھے کہ آرمی چیف ایک اتنے جونیئر افسر کو اتنی توجہ کیوں دے رہا ہے۔ چیف کی اس توجہ کی وجہ سے نوجوان افسر کے دفتر میں قالین اور دیگر سہولتوں کا فوری اضافہ ہوگیا۔صولت رضانے جنرل ضیا الحق کی سادگی اور کسی معقول مشورے کو بلا حیل وحجت مان لینے کے واقعات بتائے ۔ وہ کہتے ہیں :’’یہ حقیقت ہے کہ جنرل ضیا الحق مارشل لاء حکمران ہونے کے باوجودکافی حد تک آزادی اظہار برداشت کرتے تھے۔ اخبارات اور کتب کا مطالعہ ان کی عادت ثانیہ تھا۔یوں ان میں ایک بااخلاق سامع کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں عسکری، سیاسی، ابلاغی محاذ پر منفرد کارنامے انجام دئیے جنہیں محض مارشل لا حکومت کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا

۔بدقسمتی سے سانحہ بہاولپور کے بعد جنرل ضیا الحق کے غیر سیاسی کارنامے پس پشت چلے گئے۔میاں نواز شریف نے جنرل ضیا الحق کے سیاسی ورثے کو اپناتے ہوئے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔یہ اور بات کہ نواز شریف نے کچھ عرصے سے دیگر آرمی چیفس کے ساتھ اپنے مربی محسن کو بھی آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا ہے۔ ‘‘ صولت رضا کے بقول ،’’بیرونی محاذ پر بھارت جنرل محمد ضیا الحق سے سب سے زیادہ خائف تھا، شائد ان کے پاس پاک افواج کی تیاری کے حوالے سے رپورٹس موجود ہوں۔ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد بھارت کو خدشہ تھا کہ اب’’ تربیت یافتہ ‘‘مسلمان جتھے کشمیر سمیت متعدد ریاستوں کو آزاد کرائیں گے یا کم از کم بھارت کے زیر اثر نہیں رہنے دیں گے،بنگلہ دیش میں بھی اس حوالے سے خوش آئند سیاسی اور عسکری تبدیلیاں آ رہی تھیں۔جنرل ضیا الحق خطے کی صورتحال کا مکمل ادراک رکھتے تھے۔ جنرل ضیا الحق نے آرمی کی متعدد تربیتی مشقوں معائنہ کے بعد افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں یہ کہا ،’’ہم نے سقوط ڈھاکہ کا بدلہ لینا ہے ،آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں یہ ہو کر رہے گا۔بھارت کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو اس نے ہمارے ساتھ مشرقی پاکستان میں کیا۔‘‘ صولت رضا کے خیال میں ضیا الحق کی قومی خدمات کو محض ’’مارشل لا ئ‘‘ حکمران کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔تاہم انہوں نے ایک اور دلچسپ واقعہ سنایا جو بھٹو صاحب کی افتاد طبع کو بتانے کے

ساتھ ضیا الحق کے بارے میں بھی منفی تاثر قائم کرتا ہے۔ صولت رضا ان دنوں کوئٹہ میں کیپٹن تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب بطور وزیراعظم کوئٹہ دورے پر آئے، آرمی چیف ضیا الحق اور ایڈوائزر جنرل ریٹائر ٹکا خان بھی ہمراہ تھے، کوئٹہ میس میں ان کے اعزاز میں لنچ تھا، جس میں گریژن کے کچھ اور افسر بھی تھے۔ لنچ کی باضابطہ کارروائی سے پہلے بھٹو صاحب کے گرد جوان افسر گھیرا ڈالے ان کی گفتگو سن رہے تھے ، اتنے میں بھٹو کے ملازم نے ان کا پسندیدہ مشروب ان کے سامنے رکھ دیا۔ کسی نے آواز لگائی کہ آرمی میس میں یہ مشروب نوش جاں کرنے پر پابندی ہے، بھٹو صاحب کی گرج سنائی دی،’’ویئر از ضیا؟‘‘ضیاالحق کچھ فاصلے پر کسی اور مہمان سے بات کر رہے تھے، وہ فوری لپک کر آئے۔بھٹو نے میس میں پابندی کے بارے میں پوچھا تو ضیا نے بتایا کہ یہ پابندی سابق آرمی چیف جنرل ٹکا خان کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ بھٹو صاحب نے اپنا گلاس لہراتے ہوئے کہا،’’مگر میں تو پی رہا ہوں۔‘‘اس پر ضیا الحق نے ’’تاریخی‘‘ جملہ کہا، سر آپ قانون سے بالاتر ہیں .)۔ یہ جملہ سن کر بھٹو پھولے نہ سما رہے تھے، سب نے قہقہہ لگایا اور بات آئی گئی ہوگی۔ صولت رضا نے اس کے بعد ایک خوبصورت فکرانگیز جملہ کہا:’’بڑے عہدوں پر متمکن شخصیات کی گفتگو، بدن بولی اور نشست وبرخاست میں خیر اور شر کے پہلو موجود رہتے ہیں، دیکھنے اور سننے والوں کے لئے نصیحت ،و صیت اور عبرت کا سامان ۔ کاش بروقت غور کر لیا جائے۔‘‘ کالم کی گنجائش ختم ہوئی، ایم کیو ایم اور ان کے خلاف کئے جانے والے کام کا ذکر رہ گیا۔ اگلی کسی نشست میں اس کی تفصیل بھی ا ن شااللہ آئے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *