اسلام آباد واقعہ! ملزمان صرف لڑکی کو بلیک میل کر کے 13 لاکھ سمیت کیا کیا لے چکے ہیں؟ سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسلام آباد میں نوجوان جوڑے پر تشدد کے کیس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیش میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمان لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوئے لاکھوں روپے بٹور چکے تھے۔ گینگ کے کارندے متاثرہ لڑکی سے الگ الگ پیسے وصول کرتے رہے۔عثمان مرزا گینگ نے لڑکی سے 13 لاکھ روپے وصول کیے۔

وفاقی پولیس نے بلیک میلنگ،بھتے کی دفعات شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران نے مزید دفعات شامل کرنے کے لیے وزارت قانون سے رابطہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے اور پولیس کو ایک ماہ میں کیس منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔مفرور ملزمان کے پاسپورٹ واچ لسٹ پر ڈالنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ملزمان کے بیرون ملک فرار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے پولیس نے ایف آئی اے کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے نام ، پاسپورٹ واچ لسٹ میں ڈالے جائیں گے۔یاد رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ ایک شخص لڑکے اور لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے جب کہ وہ لڑکے کو مارتے ہوئے مغلظات بھی بک رہا ہے۔ ملزم کی اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے پرانی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتے ہی جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور ویڈیو آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان تک پہنچ گئی، جس کے بعد انہوں نے وقوعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز کو ملزمان کو گرفتارکرنے کا حکم دیا۔ جبکہ سلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ مقدمے میں نامزد یا ویڈیو

میں نظر آنے والے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عثمان مرزا گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے، متاثرین کی جانب سے شکایت درج نہ کروانے پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں ملزمان کے خلاف تشدد اور غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا ، جس میں اسلام آباد پولیس کے سب انسپیکٹر مدعی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق واقع ای الیون ٹو میں واقع اپارٹمنٹس میں پیش آیا۔ اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ویڈیو میں نظر آنے والے ملزم عثمان مرزا کو چند گھنٹوں میں ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اب تک اس واقعہ میں ملوث چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ملزمان کو مجاز عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، کوئی شخص کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ’ملزمان کی ضمانت منظور ہونے سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ یہ جھوٹ پر مبنی ہیں۔ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد کو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور واقعہ کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *