باقی کمپنیوں کے بعد ہونڈا نے بھی کاروں کی قیمتیں کم کر دیں‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق ایک، دو روز میں ہوجائے ہوگا، آٹو سیکٹر سب سے بڑا سیکٹر ہے جسے بہتر بنا کر برآمد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،پہلا ہدف معیشت کا پہیہ چلانا تھا، پچھلے سال ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بنیں، نئی آٹو پالیسی کے تحت ہمارا

ہدف ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بڑھائیں اور اگلے سال کم از کم 3 لاکھ تک پہنچے،جیسے ہی ہم نوکریاں بڑھائیں گے اس سیکٹر میں اس سال تقریباً 3 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد متعدد کار ساز کمپنیوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں نئی آٹو پالیسی 26-2021 کی روشنی میں کمی نمایاں کمی کی ہے جس کے بعد صارفین گاڑی کی قیمتوںکے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ ہونڈا موٹرز نے نئی آٹو پالیسی کے مطابق کہا ہے کہ اب بی آر وی آئی وی ٹیک ایس کی قیمت 34 لاکھ 79 ہزار سے ایک لاکھ 5 ہزار روپے کم کر کے 33لاکھ 74 ہزار روپے کی کمی کر دی گئی ہے ۔سوک 1.8 آئی وی ٹیک کی قیمت 37 لاکھ 29 ہزار روپے سے ایک لاکھ 15 ہزار روپے کم کر کے 36 لاکھ 14 ہزار روپے تک کر دی ہے ۔ سوک 1.8 آئی وی ٹیک اوریل کی قیمت 39 لاکھ 79 ہزار سے ایک لاکھ 15 ہزار کی کمی کے ساتھ 38 لاکھ 64ہزار300 میں ملے گی جبکہ سوک آر ایس ٹربو 46 لاکھ 99 ہزار سے ایک لاکھ 35 ہزار روپے کمی کے ساتھ 45 لاکھ 64ہزار کی ہو گئی ہے۔نئی ہونڈا سٹی کی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا تاہم امید ہے کہ اس نئی آٹو پالیسی سے اس کی قیمت بھی کچھ کم ہو جائے گی۔ گو کہ قیمتوں میں یہ کمی بہت زیادہ تو نہیں مگر کمپنی کو امید ہے کہ اس سے انہیں نئے آرڈرز ملنے

میں کافی مدد ملے گی۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق ایک، دو روز میں ہوجائے ہوگا، آٹو سیکٹر سب سے بڑا سیکٹر ہے جسے بہتر بنا کر برآمد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،پہلا ہدف معیشت کا پہیہ چلانا تھا، پچھلے سال ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بنیں، نئی آٹو پالیسی کے تحت ہمارا ہدف ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بڑھائیں اور اگلے سال کم از کم 3 لاکھ تک پہنچے،جیسے ہی ہم نوکریاں بڑھائیں گے اس سیکٹر میں اس سال تقریباً 3 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔ بدھ کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات کو نشریات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہا کہ پہلا ہدف معیشت کا پہیہ چلانا تھا، پچھلے سال ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بنیں، نئی آٹو پالیسی کے تحت ہمارا ہدف ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بڑھائیں اور اگلے سال کم از کم 3 لاکھ تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے میری گاڑی اسکیم کے تحت جنرل ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی اور چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بھی ختم کردیا ہے، چھوٹی گاڑی میں جس میں آلٹو کی رینج ہے اس میں 1 لاکھ 5 ہزار قیمت کم ہوگی، 1000 سی سی میں 1 لاکھ 45 ہزار کم ہوگی، کلٹس میں ایک لاکھ 86 ہزار کم ہوگی ، سٹی کی قیمتیں کم ہوں گی، ٹویوٹا یارِس وغیرہ میں ایک لاکھ 25 ہزار تک قیمتیں کم ہوں گی، اس طرح جتنی گاڑیاں ہیں ان کی نئی قیمتوں کا اطلاق ایک، دو روز میں ہوجائے ہوگا۔انہوںنے کہاکہ میں یہ خوشخبری بھی سنانا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم نوکریاں بڑھائیں گے اس سیکٹر میں اس سال تقریباً 3 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی، آٹو موبائل سیکٹر سے وابستہ دوسرا سیکٹر

موٹرسائیکل کا ہے، پاکستان میں اس میں بہت نمو آئی، دیہی علاقوں میں جب پیسہ آتا ہے تو اس کی طلب بڑھتی ہے، اس سال 26 لاکھ موٹر سائیکل پاکستان میں بنیں اور اگلے سال انشاللہ 30 لاکھ موٹر سائیکل بنیں گی۔خسرو بختیار نے کہا کہ ‘4 لاکھ اضافی موٹر سائیکل آپ کو تقریباََ 75 ہزار اور نوکریاں دیں گی، نوکریوں کا مطلب ورک شاپ، مینوفیکچرنگ، آفٹر سیلز سروس، ڈیلر شپ، ہر شعبے میں ترقی ہوگی، اس سیکٹر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کو ملا کر تقریباً 3 لاکھ 75 ہزار نوکریاں اس سال آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جو پہلی بار گاڑیاں خریدنا چاہتے ہیں ان کیلئے کیا آسانیاں پیدا کریں، ایک خاندان جو موٹر سائیکل استعمال کر رہا ہے اس کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو آگے بڑھائے اور گاڑی خریدے، سب سے پہلے ہم نے گاڑیوں کی اپ فرنٹ پیمنٹ کو 20 فیصد کردیا ہے، ساتھ ہی ہم نے چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم کی ہے اور آنے والے وقتوں میں اس کی لیز کے مرحلے کو بھی آسان کریں گے تاکہ ماہانہ قسط وار طریقے سے لوگ اپنی باعزت سواری پر چل سکیں۔انہوںنے کہاکہ اگر ہم نے پاکستان کی نمو بڑھانی ہے تو ہمیں ملک کے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ شعبوں کو آگے بڑھانا پڑے گا ورنہ جیسے ہی آپ مینوفیکچرنگ بڑھاتے ہیں، برآمد نہیں بڑھتی درآمد بڑھ جاتی ہے، اب انڈیجلائزیشن اور لوکلائزیشن پر توجہ ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘اس وقت پاکستان میں 30 سے 35 فیصد لوکلائزیشن ہورہی ہے ہم ایک سال کے ٹارگٹ سے ساتھ اسکو 10 فیصد تک لے کر جانا چاہتے ہیں یہ بہت بڑا سیکٹر ہے ، موٹر سائیکل کے علاوہ کوئی 12 سو ارب کا یہ سیکٹر ہے ساڑھے 3 سو ارب یہ ٹیکسٹ دیتا ہے یہ صرف پاکستان کی مارکیٹ کیلئے نہیں ہونا چاہیئے ہم باہر سے سی کے ڈی منگواتے ہیں ہم ویلیو ٹرمز میں پرزے منگواتے ہیں اب اسکو ہمیں ایکسپورٹ کی طرف لے کر جانا ہے جو نئی پالیسی آرہی ہے وی آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ

پالیسی ہے تاکہ پاکستان کا سیکٹر گلوبل آٹو مینوفیکچرنگ ویلیو ایبل آٹو پارٹس کا حصہ بنے اور اس پالیسی میں لازم ہوگا جتنی آپ امپورٹ کریں کے اسکی کے کچھ فیصد آپ کو ایکسپورٹ کرنا ہوگا تاکہ جو متعلقہ کمپنیز نہیں چاہیں جاپانی ہوں یا یورپین ہو انکو پاکستان کا قانون پتا ہو کہ ایکسپورٹ اب کرنی پڑے گیجیسے جیسے قیمتیں نیچے آئیں گی ڈیمانڈ بڑھے گی پروڈکشن کی صلاحیت وقت لیتے ہے اسکو بڑھانے میں تو مارکیٹ میں ڈیمانڈ سپلائے کے بیچ خلا پیدا ہوگی اور اون کا جو مسئلہ ہے وہ اور زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے اس کے حل کیلئے ہم نے یہ کیا ہے وہ خریدار ہے اس کو اپنے نام پر گاڑی رجسٹرڈ کرانی پڑے گی یا جو گاڑی رجسٹر کرائے گا وہ ہی گاڑی بک کراسکتا ہے دوسرا اگر گاڑی مینوفیکچرر نے 60 روز سیزیادہ تاخیر کی تو کائی بوڈ کراچی انٹرسٹ ریٹ اسکے علاوہ 3 فیصد ان پر لاگو ہوجائے گا کے ڈیلے پیمنٹ کے لحاظ میں وہ دیں گے ،تیسرا گاڑی کی آن لائن بکنگ ہونگی ہر کسٹمر کو یہ پتا ہوگا کہ اسکی گاڑی اس وقت کس اسٹیج میں ہے ، رجسٹریشن کی شرط ٹائم باونڈ نہیں ہوگی اس پر اسکی کو جرمانہ دینا پڑے گا جو 50 ہزار سے 2 لاکھ سے زائد ہے اور اگر ہم نے دیکھا کہ اس کے باوجو بھی اون کا مسئلہ چل رہا ہے تو ہم اس جرمانے کی قیمت کو مزید بڑھادیں گے شاید بڑھا کر گاڑی کی ویلیو کے 10 فیصد کردیں تاکہ جو سرمایہ کار ہے اون میں جو مارکیٹ سپلائے میں جو کھیلنا چاہتا ہے اس میں بہت کم جگہ ہو کہ وہ مارکیٹ کو مینوپلیٹ کر سکے۔انہوںنے کہاکہ اب ہمارا فوکس یہ ہی رہے گا کہ انکی کوالٹی بھی امپروو کی جائے اسکے سیفٹی فیچرز دنیا میں لاگو سیفٹی فیچرز ڈبلیو پی 29 کے شیڈول پاکستان کی گاڑی میں یہ سیفٹی فیکچرز ہوں ، ہماری پالسیی آرہی ہے اس کے اندر ہم ہائبریڈ اور ای وہیکل کے لیے بھی ہم نے بہت اقدام کئے ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں پر 25 فیصد کی ایکسپورٹ کو 10 فیصد کردیا ہے تاکہ پاکستان کے اندر الیکٹرک وہیکل آئیں اور اسکے ساتھ ہی اسکا انفرااسٹکچر بنیچارجنگ اسٹیشن سے بھی معیشت کا پہیا چلے گا ،اور یہ ہی سلسلہ ہائیبریڈ کا ہے جو آپکے فیول 30 فیصد کنزمشن کم کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ مین آپ کے توسط سے یہ ہی خوشخبری سنانا چاہتا تھا کہ پاکستان میں سب

گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں اور چھوٹی گاڑی پر میری گاڑی اسکیم کے تحت ہمارا زیادہ فوکس ہے ہم انشاللہ پاکستان کی آٹو سیکٹر کی پروڈیکشن بڑھائیں گے کوئی سیکٹر اگر اس نے دنیا میں مقابلہ کرنا ہے گلوبل چین کا حصہ بننا ہے تو اس کا ایک سائز ہوتا ہے جب پاکستان میں 5 لاکھ گاڑی بنے گی تو آپ کے پاس یہ اسکیلز آجائیں گے کہ یہ سیکٹر دنیا کی گلوبل آٹو چین کا حصہ بن جائے گاوزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کے تحت ہماری خواہش یہ ہی ہے کہ ہم 2023-24 تک اس سیکٹر کو مو 5 لاکھ کے ٹارگٹ کے قریب سے قریب تر لے آئیں۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے خرچے زیادہ تھے، آمدنی کم تھی، جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک معاشی بحران پیدا ہوگیا تھا اور ہم قرضوں پر قرضے لیے جارہے تھے اور اپنا ملک چلا رہے تھے، ان تین سالوں میں وزیر اعظم عمران خان کا جو سب بڑا کردار ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کی معاشی سمت تبدیل کی ہے، ہم پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 کروڑ ڈالر سے صفر پر لائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صنعتیں بند ہوگئی تھیں جنہیں ہم نے دوبارہ زندہ کیا ہے، ہماری زرعی ترقی بالکل رک گئی تھی ہم نے اسے بہتر کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں چار بڑی فصلوں کی پیداوار بڑھی، پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ گندم پیدا ہوئی، پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی گنے کی فصل ہوئی، ہم نے زراعت کو بہتر کیا، ہم اپنے قرضوں میں بہتری لے کر آئے اس میں جو ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے اس کو ہم نے صفر کیا اور اب ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جو ہماری روز مرہ استعمال کی چیزیں ہیں اب ان میں استحکام نظر آرہا ہے، آج ہم آپ کے سامنے نئی خوشخبری لے کر آئے ہیں جس سے گاڑیوں کی قیمت میں کمی ہوگی، ہم نئی آٹو پالیسی کے نکات سامنے رکھیں گے، اس کے نتیجے میں ہمارے متوسط طبقے کے جو مسائل ہیں جن کا ہم نے مشاہدہ کیا ہے اور جو لوگ پہلی بار گاڑیاں لے رہے ہیں ان کے لیے خصوصی اقدام اٹھایا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *