ڈالروں کی برسات۔۔۔!!! نارروے حکومت نے پاکستان کے لیے بڑا اعلان کر دیا ، حکمران جماعت کے لیے بڑی خوشخبری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ناروے حکومت پاکستان کو 50 لاکھ ڈالر فراہم کرےگی ، اس رقم سے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ، تحفظ ماحولیات اورقدرتی آفات سےبچاؤکےمنصوبے شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اورناروےکےمابین معاہدے پر دستخط ہوگئے ، سیکرٹری اقتصادی امورڈویژن، سوئس سفیر، اے ڈی بی نمائندے نے دستخط کئے، معاہدہ

پاکستان نیشنل ڈیزاسٹررسک مینجمنٹ فنڈ کی مدد کیلئے طے پایا۔معاہدےکےتحت ناروےحکومت پاکستان کو50لاکھ ڈالرفراہم کرے گی، ناروےکی حکومت یہ رقم ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے فراہم کرے گی ، معاہدے کے تحت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ، تحفظ ماحولیات اورقدرتی آفات سے بچاؤ کے منصوبے شامل ہیں۔یاد رہے گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان کو ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1.3 ارب ڈالر کی رقم موصول ہوئی تھی ، 1.3 ارب ڈالر پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے دیے گئے ہیں۔اے ڈی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے امداد جاری رکھی جائے گی، رقم سے پاکستان کو مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔معاہدے کے تحت قرض کی مد میں 1.3 ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ معاہدے کے تحت 2 پروگراموں پر کام کیا جائے گا، قرض کا مقصد زر مبادلہ کی شرح کو بہتر بنانا ہے۔ 300 ملین ڈالر توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور مالی استحکام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مذکورہ رقم سے شروع کیے جانے والے منصوبوں سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی۔ دوسری جانب امریکن کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستانی معیشت کو مستحکم قرار دے دیا، فچ نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی بی مائنس ریٹنگ برقرار ہے جبکہ آؤٹ لک مستحکم ہے، کرنٹ خسارہ کم اورزرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، رواں مالی سال جاری خسارہ2.1 فیصد سے کم ہوکراگلے مالی سال میں1.9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔ فچ نے پاکستان کی معیشت پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ رواں مالی سال جاری خسارہ جی ڈی پی کے 2.1

فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔اگلے مالی سال میں جاری خسارہ جی ڈی پی کے 1.9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔ پاکستان کا کرنٹ خسارہ کم ہوا ہے اورزرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔ فچ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیوں کو دورکیا ہے۔جس کے باعث پاکستانی معیشت کی بی مائنس ریٹنگ برقرار ہے جبکہ معاشی آؤٹ لک مستحکم ہے۔ دوسری جانب ملک میں مہنگائی کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے دوران 0.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پاکستان بیورو برائے شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 9 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران مشترکہ گروپ کے لئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ 132.32 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے مشترکہ گروپ کے لئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ 131.84 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔17 ہزار 732 روپے ماہانہ آمدنی والے گروپ کے لئے مہنگائی کی شرح گزشتہ ہفتے کے دوران 0.45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد وشمار کے مطابق 17 ہزار 737 روپے سے لے کر 22 ہزار 888 روپے ماہانہ،22 ہزار 889 روپے سے لے کر 29 ہزار 517، 29 ہزار 518 سے لے کر 44 ہزار 175 اور 44 ہزار سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے گروپوں کے لئے مہنگائی کی شرح میں بالترتیب 0.44، 0.42، 0.41 اور 0.30 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ایک اشیائے ضروریہ میں کمی، 27 کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 23 کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں دال، کیلا، دال ماش، ٹماٹر، دال مونگ، انڈے، آلو، لہسن، گڑ، آٹا، ماچس، دال مسور، واشنگ سوپ، چکن، چینی، خشک دودھ، سرسوں کا تیل، بناسپتی گھی، ایل پی جی، گوشت، ٹوائلٹ سوپ ، کوکنگ آئل، ہڈی والا گوشت، باسمتی چاول اور اری چاول شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *