اچھا تو اس وجہ سے بھٹو زندہ ہے ۔۔۔ فاطمہ بھٹو بھی عمران خاں کو پیاری ہو گئیں ، زرداری کو کہیں کا نہ چھوڑا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کہتے ہیں کہ جب انسان پر بُرا وقت آتا ہے تو انسان کا سایہ بھی اُس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے اب ایسا ہی کچھ شریف برادران اور زرداری اینڈ کمپنی کے ساتھ ہو رہا ہے۔قبل ازیں عمران خاں نے زرداری کو ایک بیماری قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ زرداری اینڈ کمپنی نے ملک کو بے دردی سے لوٹا ہے۔

اب سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی پوتی بے نظیر بھٹو کی بھتیجی اور مرتضیٰ علی بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹونے یہ فریضہ سرانجام دیا ہے۔ فاطمہ بھٹو نے گھوسٹ سکولوں کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ سندھ کے شہر سجاول کے تعلیمی ادارے کی ایسی تصاویر شیئر کردیں کہ خود آصف زرداری بھی پریشان ہوجائیں۔ انہوں نے پاکستانیوں سے اپنے علاقوں کے گھوسٹ سکولوں کی تصاویر شیئر کرنے اور مقامی ایم این ایز اور ایم پی ایز کوٹیگ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے خود بھی گھوسٹ سکولوں کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ اپنی ایک ٹویٹ میں ویران اور اجڑے ہوئے ایک سکول کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ”کیا آپ کے علاقہ میں کوئی گھوسٹ سکول ہے؟ (اگر ہے تو) اس کی تصویر لیں، تفصیلات جمع کریں اور پھر پوسٹ کریں، پتہ چلائیں حلقہ کا ایم این اے اور ایم پی اے کون ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کتنی نسلوں کو یوں لاوارث چھوڑا جائے گا؟ فاطمہ بھٹو نے سکول کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ یہ کرپشن ہے جس پر عمل ہو رہا ہے، یہ گورنمنٹ سرشاہنواز بھٹو بوائزسکول ہے جو کہ سندھ کے شہر سجاول میں واقع ہے ۔ (اس کا نام میرے پردادا کے نام پر رکھا گیا ہے اور شاید مقامی حکومت کی نگرانی میں ہے)یہ سکول گزشتہ بارہ سالہ سے یونہی بند پڑ اہے“۔ اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میں فاطمہ نے مزید تصاویر بھی شیئر کیں ، ایک تصویر کو انہوں نے کیپشن دیا کہ ’یہ کھڑکی ہے جو چھوٹی ہونے کے ساتھ کوڑے اور گندگی سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی چھت گرچکی ہے، بارہ سال ہوچکے (تقریبا ایک نسل)میں سے کوئی بھی سجاول کے ایک گاوں میں واقع اس سکول میں نہیں پڑھ سکا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.