خان صاحب : عوام کی ہمت جواب دے رہی ہے ، اب بھی وقت ہے یہ کام کر لو تو کچھ نہ کچھ بھرم رہ جائے گا ۔۔۔۔ حسن نثار کا وزیراعظم عمران خان کے لیے مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس ملک کا ہر شہری کیسی کیسی جُوٹھ اور کیسا کیسا جُھوٹ بھگت چکا ہے اور بھگت رہا ہے۔ الامان الحفیظ…. رب ہی جانتا ہے کب تک یہ سارے عذاب اور کذاب عوام کو بھگتنا ہوں گے جن کی زندگیوں

کے دو ہی عنوان ہیں۔ اول ’’فکر معاش‘‘ دوم ’’روٹی کی تلاش‘‘ تقریباً سب ہی کچھ فیک اور فراڈ ہے۔ گزشتہ رات بارش ہوئی، سارا برقی نظام چند بوندوں کی مار ثابت ہوا۔ یو پی ایس کے سہارے مدھم روشنی میں کالم لکھنے بیٹھا۔ جنریٹر بھی میری طرح بوڑھا ہوگیا ہے۔ اتنا شور مچاتا ہے کہ … ’’سلسلۂ کالم بھی ٹوٹ ٹو ٹ جاتا ہے‘‘ اس لئے بند کروا دیا۔کل ایک ’’خوشخبری‘‘ سنی۔ طبیعت ’’صحرا صحرا‘‘ ہوگئی حالانکہ محاورہ ’’باغ باغ‘‘ ہونا ہے لیکن اصل محاورہ یہ ہے ’’اجڑے باغاں دے گالہڑ پٹواری‘‘ لیکن یہ تو وہ باغ ہے جو کبھی ہرا بھرا ہوا ہی نہیں۔ یہاں پھول نہیں ببول ہی کھلتے رہے، تتلیاں نہیں مردار خور گدھ ہی منڈلاتے رہے، جگنو نہیں صرف جگے ہی چمکے، مالیوں کے نام پر نالیوں کے کیڑے، لیکن چھوڑیں اور خوشخبری کی طرف چلیں کہ میرا ایک فیورٹ ادارہ پنجاب فوڈ اتھارٹی بھی الماس بوبی کے نقش قدم پر چل نکلا ہے۔ یہ کام شہباز شریف نے کیا تھا جس کی پرفارمنس دیکھ کر میں نہال ہوگیا اور دل کھول کر داد دی، شاباش دی کیونکہ امید پیدا ہوئی کہ شہریوں کو خوراک میں ملاوٹ اور غلاظت سے بچنے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے۔ نور الامین مینگل سے لے کر کیپٹن عثمان جیسے افسران تک پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بہترین انداز میں پرفارم کیا لیکن اب اس پر سرکاری نحوست چھا چکی ہے، لگتا ہے کوئی سانپ سونگھ چکا۔ پہلے فراٹے بھر رہی تھی اب اس کی اتھارٹی خراٹے لے رہی ہے۔ کسی سیانے سے اس کی وجہ پوچھی تو جواب سن کر حیرت میں ڈوب گیا

کیونکہ بزدار سرکار کا فیصلہ ہے کہ جعلی دودھ سے لے کر مضر صحت خوراکیں بیچنے والوں کے ’’اڈوں‘‘ کو سیل کرنے سے ’’کاروبار‘‘ متاثر ہوں گے، بے روزگاری بیکاری میں اضافہ ہوگا۔ سبحان اللہ … کیا لاجک ہے، کتنی دور دور سے کوڑیاں جمع کرکے گڈگورننس کے کیسے کیسے شہکار پیش کئے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو میری ہی نظر کھا گئی اور کسی کا کوئی دوش نہیں۔گزشتہ کل خوب صورت شاعر منصور آفاق کا کالم پڑھا جو حکوت برد ہو چکا ہے (کالم نہیں کالم نگار) ۔ اس حیران پریشان کر دینے والے کالم کا عنوان تھا ’’میں اور مجلس ترقی ادب‘‘ یقین نہیں آ رہا کہ ترقی ادب کی مجلس اس بری طرح برباد اور اجڑی ہوئی تھی۔ ممکن ہو تو آپ یہ کالم دوبارہ پڑھیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ کیا کیا کچھ ’’گورِ گورننس‘‘ میں دفن ہو چکا۔ واقعی زوال آئے تو پورے کمال میں کمال میں آتا ہے۔ دعا ہے منصور اسے سنبھال سکے۔وزیر اعظم کا تازہ ترین بیا ن بھی لاجواب ہے۔ فرمایا،’’مزید ٹیکس نہ لگائے جائیں، عوام کو ریلیف دینے کے لئے ’’آئوٹ آف بوکس‘‘ سلوشنز تجویز کئے جائیں‘‘۔ اس بیان کا پہلا حصہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ’’مزید ٹیکسز‘‘ یقیناً زیر غور ہیں تو حکومت کو یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ اب مزید مہنگائی یا ٹیکس کسی وقت بھی عوام کی پہلے سے ٹوٹی ہوئی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد کچھ بھی سنبھالنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ عوام کی ہمت جواب دیتی جا رہی ہے۔ رہ گئے ’’آئوٹ آف بوکس‘‘ خیالات تو اس کے لئے تخلیقی صلاحیتوں کے حامل بیدار مغز لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ یہاں :آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہولوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہی دستاروں میںپہلی شرط یہ ہے کہ دستار میں ’’سر‘‘ ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ اس ’’سر‘‘ میں مغز بھی ہو اور تیسری شرط یہ ہے کہ اس مغز میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ہو۔ اگر یہ سب کچھ موجود ہے تو عوام کو ریلیف دینے والے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔ ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘ لیکن اگر درخت ہی مر چکا ہو تو؟قارئین!بجلی کی غیر موجودگی میں اتنا کچھ ہی عرض کیا جاسکتا تھا۔ کل تک بحال ہوگئی تو ایک انتہائی سنجیدہ موضوع پر کچھ عرض کروں گا جو آج کے ماحول میں ممکن نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *