بزدار کی کرسی خطرے میں! چیف جسٹس نےفردجرم عائدکرنےکاعندیہ دیدیا

لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ میں جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کاحصہ بنانے کی درخواست پر سماعت,پرنسپل سیکرٹری ٹووزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگرافسران پیش،عدالت نےدرخواست گزار کووزیراعلیٰ پنجاب کودرخواست مفریق بنانےکی اجازت دےدی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نےشفیق الرحمٰن کی درخواست پرسماعت کی ،عدالتی حکم پروزیراعلیٰ کےپرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید ، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک ،سیکرٹری قانون بہادرعلی خان،سیکرٹری

خزانہ سمیت دیگرافسران عدالت پیش ہوئے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک اختر جاوید نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ4 آئینی درخواستیں ہائیکورٹ میں زیر التواء ہیں،درخواستوں میں ہائیکورٹ انتظامی کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی ۔ ہائیکورٹ رولز کے تحت فیصلہ انتظامی نوعیت کا ہے،آئین کےآرٹیکل204 کےتحت صرف عدالتی حکم عدولی پرتوہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے،ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کانوٹیفکیشن عدالتی نوعیت کانہیں ہے۔موجودہ کیس میں کسی بھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔چیف جسٹس نےلاء افسر سے مکالمہ کرتےہوئےکہا عدالتی فیصلہ آپ پیش کر رہےہیں وہ فیصلہ مستردہو چکاہے،مجھےبتائیں وزیراعلیٰ کوآئین کے تحت کوئی استثنیٰ حاصل ہےیانہیں؟ ہو سکتا ہےآج مجھے وزیراعلیٰ پرتوہین عدالت کی کارروائی کرنا پڑ جائے،آج میں بیٹھا ہوں رات بارہ ایک بجے تک، قانون کے تحت تو گورنر اور صدر کو استثنیٰ حاصل ہے، چیف سیکرٹری بولےافسروں کیلئےبڑا آسان ہے کہ انکو جیل بھیج دیں، ہمیں وقت دیں ہم کام کر کے آ جاتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کےپرنسپل سیکرٹری طاہرخورشید کاکہناتھا کہ ایساسوچ بھی نہیں سکتےکہ توہین عدالت کی جائے،وزیراعلیٰ کو جب سمری دی گئی توانہوں نےفوری طورپرمنظوری دےدی تھی، چیف جسٹس نےکہامیں ڈکلیئر کرنےلگاہوں کہ وزیراعلیٰ اس کیس میں فریق ہیں،اگر کل صبح 11 بجے تک آرڈیننس جاری ہوا تو پھر دیکھ لوں گا،اس حکومت نے8 گھنٹے کے اندر کئی ایسے کام کیے ہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں عدالتی ملازمین کی پنشن میں جوڈیشل الاؤنس شامل کیاجاچکاہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کا حصہ بنانےکاحکم دے۔عدالت نےسرکاری وکلاء کی درخواست پر آرڈیننس جاری کرنے کی کل شام5بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کل شام 5 بجے تک اگر یہ کام نہیں ہواتووزیراعلیٰ کو طلب کروں گا، اسی وقت شوکاز نوٹس دیں گے،رات 9 بجے فرد جرم عائد کروں گا اور اتوار کو فیصلہ کر دوں گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *