بینک ملازمین ہی کریڈٹ کارڈ فراڈ کرنے لگے صارفین کی بڑی رقم ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

اسلام آباد (پاکستان کی بات نیوز) کریڈٹ کارڈ فراڈ میں ملوث بینک ملازمین اور دیگر پر مشتمل گروہ بے نقاب ہوگیا ، فراڈ میں نجی بینک ملازمین سمیت گروہ میں کوریئرکمپنی کا ڈلیوری بوائے اور ایجنٹ بھی شامل ہیں ، ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے نجی بینک کے 3 ملازمین

کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گروہ میں نجی بینک کے کریڈٹ کارڈ ڈیپارٹمنٹ کا سیلز سیکشن کا افسربھی شامل تھا ، افسرکی ذمہ داری جعلی دستاویزات کی تصدیق کرنا ہوتی تھی ، گرفتار کیا گیا گروہ انتہائی ہوشیاری سے جعلسازی کرتا تھا اور ملزمان کریڈٹ کارڈ فراڈ کے ذریعے شہریوں سے رقم بٹورتے تھے ، جن کے خلاف اب تک 60 سے زائد متاثرہ شہریوں کی شکایات سامنے آچکی ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گروہ 2 سال سے فراڈ کی وارداتیں کررہاتھا ، اس مقصد کے لیے گروہ کے کارندے کریڈٹ کارڈ شہریوں کے قومی شناختی کارڈ پر بنواتے ، کوریئرکمپنی کا ملازم شناختی کارڈ کی تصدیق اور دستاویزات حاصل کرتا تھا اور کورئیر کمپنی کا یہ ملازم کریڈٹ کارڈ بھی خود ہی رکھ کر گروہ کے حوالے کرتا تھا ، جب کہ نجی بینک ملازم جعلی دستخط کرتا اور خفیہ معلومات شیئر کرتا تھا اور اب تک متاثرہ شہریوں کی ایک کروڑسے زائد رقم نکالی جاچکی ہے ، ملزم ہر کریڈٹ کارڈ کی زیادہ سے زیادہ لمٹ پر یہ رقم نکالا کرتے تھے۔ دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا میں بٹ کوائنز ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر آن لائن فراڈ کا انکشاف ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق بٹ کوائنز ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر صوبہ خیبر پختونخوا میں لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے ، اس مقصد کے لیے مختلف کمپنیوں کے نام سے پیسے لے کرصارفین کو بلاک کردیا جاتا ہے ، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے عوامی شکایات پر نوٹس لے لیا ، عوام کو ہوشیار رہنے کی ہدایت کردی ، اس حوالے سے وزیر اعلیٰ محمود خان کے مشیر آئی ٹی ضیا اللہ بنگش نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوامیں جلد آن لائن بزنس کے لیے قانون سازی کررہے ہیں ، جب تک حکومت اعلان نہ کریں ، کوئی بھی پیسہ انویسٹ نہ کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.