جلو وہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے روشنی میں چراغوں کی اہمیت نہیں ہوتی

دوسروں کے الفاظ ، لہجے اور رویے کا رونا توہم سب روتے ہیں۔ لیکن اپنے الفاظ ، لہجے اور رویے کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہمارا تعلق ایسے معاشرے سے ہے جہاں اختلاف رکھو تو بدتمیزی ہوجاتی ہے۔ اور سچ بولو تو بے ادبی ہوجاتی ہے۔ اور کچھ نہ بولو تو منافقت ہوجاتی ہے۔ بہت سے انسان ایسے

ہیں۔ جنہیں زبان نے م و ت کے گھاٹ اتارا ہے۔ گفتگو کیجیے مگر ذرا احتیاط کےساتھ ، لوگ مر بھی جاتے ہیں۔ الفاظ کےساتھ۔ میں نے ایسے قیمتی انسان دیکھے ہیں۔ جن کے بدن پر لباس نہیں تھے ایسے قیمتی لباس بھی دیکھے ہیں۔ جن کے اندر انسان نہیں تھے۔ دنیا میں کھیلنے کےلیے ہزاروں کھیل موجود ہیں۔ مگر لوگ زیادہ تر دوسروں کے جذبات سے ہی کھیلنا کیوں پسند کرتے ہیں۔ محبت کے عادی لوگ لہجوں کی سختیاں برداشت نہیں کرسکتے ۔ کہنے سے پہلے سوچو کرنےسے پہلے سیکھو پرکھنےسے پہلے سمجھواور درد دینے سے پہلے درد محسوس کرو۔ جب کوئی منتظر نہ ہو رابطے اچھے نہیں لگتے۔ انسان کمزور نہیں ، نفس کمزور ہے۔ عمل میں تاخیر نہیں نیت میں خلل ہے۔ وقت کی کمی نہیں ، سستی کی لت ہے رزق کی کمی نہیں، حرص کی بہتات ہے۔ انسان کا قحط نہیں، انسانیت کاتھوڑا ہے اچھا ضرو ر بنیں مگر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بات اچھی ہو تو کانوں کے حوالے کردو۔ ورنہ ہر بات ہواؤں کے حوالے کردو۔ زمانے کی گردش سے دل شکستہ ہوکر نہ بیٹھو۔ صبر کرو اگرچہ کڑوا ہے لیکن اس کا پھل میٹھا ہے۔ صبر کا گھونٹ دوسروں کو پلانا آسان ہوتاہے۔ خود پیتے ہوئے پتا چلتا ہے۔ کہ اک ایک قطرہ پینا کتنا بھاری ہوتاہے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں دشمن

کی بس مجھے نف رت ہے ان لوگوں سے جو دوستوں کے لبا س میں منافق ہوتے ہیں۔ زندگی سے بڑ ھ کر اپنے اصول عزیز رکھتا ہوں۔ میر ی تربیت میں نہیں شامل کسی منافق کا احترام کرنا۔ حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہرچھوٹے کو پہنچانتا ہو اور اس کی ضرورت کاخیال رکھتا ہو۔ مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہے ۔ ہمتسے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔ تعلیم جس کے اندر داخل ہوتی ہے۔ وہ سادگی اختیارکرتا ہے۔ اور جس کےاوپر سے گزرجاتی ہے۔ وہ ماڈرن بن جاتا ہے۔ آپس کی محبتیں عروج پر تب ہونگی جب آپ شخصیت کی عزت کرنا سیکھیں گے ، بڑے ہونے یا پیسے ہونے کی نہیں۔ انسان مکان بدلتا ہے۔ لباس بدلتا ہے۔ تعلقات بدلتا ہے ۔ پھر بھی دکھی ہے۔ کیونکہ وہ اپنا رویہ نہیں بدلتا ۔ آج کا انسان صرف دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے۔ اس یہی ا س کی بدنصیبی کا ثبوت ہے۔ ڈپریشن انسان کو اس وقت ہوتی ہے۔ جب وہ چاہتا ہے کچھ ہے۔ اور اسے ملتا کچھ اور ہے۔ جو اسے ملتا ہے اس کو وہ پسند نہیں کرتا۔ جب انسان میں ذاتی صفات نہ ہوں۔ تو وہ اپنے لباس سے لے کر اپنے مکان تک ہر شے کی تعریف چاہتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.