ٹانگیں کانپ رہی تھی رکشے والا اس کو اتار کر وہاں سے چلا گیا

تین دن سے ایک ان نون نمبر سے اسے مسلسل کالز آرہی تھیں۔ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی احتیاط پسند لڑکی تھی ۔ان نون نمبر پہ باتیں کرنا اس کا پرانہ مشغلہ تھا ۔مگر ابھی اس کا ایک نیا دوست بنا تھا تو وہ کیسے کسی انجان کے ساتھ روابط بڑھالیتی۔مگر اس نمبر کی پابندی سے آتی کالز کے ساتھ جب اسے ایک خوبصورت نظم مسج میں

بھیجی گئ تو اسے پڑھ کر وہ رہ نہ سکی اور جواب میں لکھ ڈالابہت اعلی زبردست ریپلائی آیا اعلی لوگوں کے لیئے اعلی ہی لفظ استعمال کیئے جاتے ہیں وہ خوشی سے کھل اٹھی اٹھلا کر پوچھا دوستی کی شرط لگائی ہے کسی سے یا ایسے ہی نمبر ملالیا دوستی تو ہوچکی ۔اس کے لیئے شرط ہی نہیں خلوص کی ضرورت ہوتی ہےاررے واہ ایسے کیسے دوستی ہوگئی میں تو آپکو جانتی بھی نہیں اس نے اپنی طرف سے تھوڑا فاصلہ رکھنے کی کوشش کی ورنہ اندر سے اسے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔اگر دوستی نہ ہوتی تو میری نظم پہ واہ کے بجائے نمبر بلاک ہوتا ۔وہ چپ رہی ۔تھوڑی دیر بعد ایس ایم ایس آیا ۔میرا یہی نمبر واٹس ایپ پر ہے وہ فورا واٹس ایپ گئی تو ایک سنجیدہ مگر پرکشش لڑکے کی تصویر تھی اسے وہ اچھا لگا گر اسی وقت اسکے موجودہ بوائے فرینڈ کی کال آنے لگی ۔اس نے ریسیو کرکے کہاشونا تھوڑا بزی ہوں تھوڑی دیر میں بات کرتی ہوں اگلا واٹس ایپ اس انجان کو کیا یہ تصویر آپکی ہےجی آگے سے بس اتنا ہی جواب آیا۔وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اگلی کیا بات کرے کہ انجان کا واٹس آیپ آیا ۔عباد نام ہے میرااس نے جواب دیاحباءخیر یہ تو آپکا نام نہیں ہے پر مان لیتے ہیں وہ حیران ہوئی کہ اسے کیسے پتہ چلا تھوڑی پریشان بھی ہوئی کہ کوئی جاننے ولا تو نہیں۔میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ نام یہ تصویر آپکی اپنی ہے یقین تو آپ کر چکی ہیں۔جب ہی تو مجھے بلاک نہیں کیااس نے پھر اعتماد

سے جواب دیا۔اس پوری رات اس نے عباد سے باتیں کی اور صبح تک اپنی تصویر بمع اصلی نام جو صباء تھا وہ اسے بھیج چکی تھی۔ اتنی جلدی وہ کسی لڑکے کو نمبر نہیں دیتی تھی ۔گر عباد میں کچھ تھا کہ دل یقین کرنے کو چاہتا تھا ۔ایک ہفتہ اسی طرح واٹس ایپ پہ بات کرتے کرتے ان کی کال پہ بات شروع ہوگئی لیکن ہمیشہ کا عباد کرتا ۔کیونکہ جب وہ ملاتی نمبر ناٹ ریسپانڈنگ جاتا۔جب بھی یہ بات اس نے عباد کو کہی وہ کچھ نہ کچھ کہہ کر ٹال جاتا ۔پچھلے بوائے فرینڈ کو وہ بلاک کرچکی تھی۔اسے لگتا تھا شاید اسے اب کسی کی ضرورت نہ رہے ۔عباد میں کچھ خاص تھاایک دن صباء نے بہت بے تابی سے عباد سے ملنے کی خواہش کی ۔عباد کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے اسے ایک جگہ بتائی کہ وہاں مغرب کے بعد پہنچ جائے ۔صباء کو اندازہ ہوا کہ جگہ کچھ دور تھی اور شاید کوئی پارک ہو مگر مغرب کے وقت کون سا پارک کھلتا ہے۔شاید وہ اسے رش میں بلا کر بدنام نہ کرنا چاہتا ہو ۔اگلے دن وہ اپنی فرینڈ کا بہانہ کرکے گھر سے نکلی اور آٹو والے کو پتہ سمجھاہا تو وہ چونکا بی بی وہاں تو پرانا ق ب رستان ہے آپ اس وقت ق برستان جائیں گی ۔ارے چاچا آپ سے جو کہہ رہی ہوں وہ کریں۔آٹو والے نے اسے کسی ق برستان کے پاس اتار دیا انتہائی سنسان جگہ پہ ایک پرانا سا ق ب رستان تھا ۔وہ جگہ دیکھ کر ڈ۔ر گئی مگر عباد سے ملنے کی لگن اتنی حاوی تھی کہ اس نے جلدی سے کرایہ دیا اور آگے بڑھ گئی مگر ق برستان میں جانے کی اس کی ہمت نہ ہوئی۔ کچھ دیر اس نے انتظار کیا کہ شاید عباد اسے خود لینے آئے مگر اس کی کال آنے

لگی ق برستان کے اندر آجاؤ کیا پاگل ہوگئے ہو اس وقت قب رستان میں ۔ تم ہو کہاں یہاں آو مجھے بہت ڈ۔ر لگ رہا ہےوہ اب شدید خوف میں مبتلا ہوچکی تھی میں کہہ رہا ہوں نا کچھ نہیں ہوگا اندر آو ۔اس بار اس نے تھوڑا رعب سے کہا وہ اس کی ناراضگی کے خوف سے اندر کی طرف بڑھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ آچکا تھا۔عباد اسے کال پہ گائیڈ کر رہا تھا ۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اسکی ہدایتیں سن کر جب ایک ق۔برکے پاس پہنچی تو عباد کی آواز آئی بس تم پہنچ گئی ہو یہیں رک جاؤ مگر تم کہاں ہو ۔وہ بس رو دینے کو تھی اس نے کپکپاتی آواز سے پوچھاتمہارے سامنے جو ق۔بر ہے میں وہیں ہوں۔وہ یہ بات سن کر لرز گئی۔اس نے سامنے واالی قب ر پہ لکھا نام پڑھا تو وہ پوری جان سے ہل گئ ق۔بر پہ لکھا تھا عباد الرحمن ولد شفیق الرحمن اور لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق انتقال دو سال پہلے ہی ہوا تھا۔اسے لگا اس کا دل سینہ پ ھ ا ڑ کر باہر آجائے گا ۔اس نے سوچا تیزی سے دوڑ کر باہر نکلے اسی لمحے کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور وہ لہرا کر بے ہوش ہوگئی۔وہ جیسے کسی گہری نیند سے جاگ رہی ہو ۔جھینگروں کی آواز اس کی سماعت پہ بہت گراں گزر رہی تھی ۔اس سے آنکھیں کھولنا مشکل ہورہی تھیں۔اس نے سر دائیں بائیں پٹخا اور جب مشکل اسے آنکھ کھول پائی تو وہ رات کے اندھیرے میں کسی کچی زمین کے حصہ پے پڑی تھی ۔ہلکی زرد روشنی کسی دور لگے بلب کی اس کی آنکھوں پہ پڑی اس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا وہ زمین پہ ہاتھ جما کر اٹھ بیٹھی اور دوبارہ آنکھیں کھولیں تو ایک قب ر کے

پاس بیٹھی تھی۔ اسے ایک دم سب یاد آیا ۔ عباد نے اسے یہاں بلایا تھا اور یہ ق۔بر وہ تیزی سے اٹھنے کے چکر میں ہلکان ہوگئی ۔اس کے اعصاب کمزور پڑ رہے تھے یہ کیسے ہوسکتا ہےیہ ق۔بر عباد کی کیسے ہوسکتی ہے ۔اگر وہ مرگیا تو پھر وہ کالز وہ شخص کون ہے۔ایک دم اسے موبائل یاد آیا مگر موبائل کہیں نہیں تھا۔اس نے چکراتے سر سے کچھ یاد کیا تو اسے یاد آیا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔اس نے مڑ کر ہر جگہ نگاہ ڈالی ۔اس کے بال بکھر چکے تھے۔کپڑوں پہ مٹی لگی تھی۔موبائل کا نام و نشان نہ تھا۔وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔مگر دو قدم چل کر اس کے قدم منجمد ہوگئے۔عباد کے برابر میں ایک خالی ق بر تھی۔لیکن جس چیز کو دیکھ کر اس کی آنکھی پھٹیں اور دل باہر آنے لگا۔۔وہ اس خالی ق۔بر کے سرہانے لگے سنگ مرمر کے ٹکڑے پہ لکھا وہ نام تھا۔صباء حمید بنت حمید خان اور آج کی تاریخ درج تھی وہ ایک دم پلٹی مگر سامنے اندھیرے میں کوئی تھا جس نے اسے دھ ک ا دیا اور وہ سر کے ب ل ق۔برمیں جا گری ۔اس نے چ ی خ مار کر اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک دم بہت ساری مٹی اس کی آنکھوں اور کھلے منہ سے اندر گئی اس نے مٹی تھوک کر آنکھیں صاف کیں ۔دوبارہ کھولنے کی کوشش کی مگر مٹی بہت تیزی سے اس پہ گر رہی تھی ۔وہ منہ کھولتی مٹی اس کے منہ میں جانے لگتی ۔آنکھیں کھولتی تو مٹی آنکھوں میں جاتی وہ چیخ بھی نہیں پارہی تھی ۔ ہل بھی نہیں پارہی تھی مٹی کا بوجھ اس پہ بڑھتا جارہا تھابس چہرہ بچا تھا اور اب وہ بھی مٹی میں دب رہا تھااسکا دم گھٹ رہا تھا اور جیسے اس کی جان

اس کے جسم سے نکل گئی ہو۔ہاسپٹل کے بیڈ پہ اس کا سر دائیں بائیں ہلتا دیکھ ۔نرس جلدی سے ڈاکٹر کو بلالائی ۔ڈاکٹرکے ساتھ اس کے بابا نے بھی اندر آنا چاہا مگر ڈاکٹر نے انہیں اجازت نہیں دی ۔اس کے بابا مما بھائی اور کچھ قریبی رشتہ دار سب آئی سی یو کے باہر تھے ۔صباء کو ہوش آگیا تھا ۔لیکن وہ اتنی ڈسٹرب تھی کہ ڈاکٹر نے اسے پھر سکون کی ادویات دے کر سلادیا تھا ۔بابا نے باقی لوگوں کو گھر بھیج دیا تھا لیکن مما نہ مانیں وہ جائے نماز بچھا کر شکرانے کے نوافل پڑھنے لگیں۔بابا بینچ پہ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ جب انہوں نے 9 بجے صباء کا پوچھا تو اسکی مما نے کہا دوست کے گھر ہے ۔جس پہ بابا فکر مندہوئے یہ کون سا وقت ہے ۔مما بھی اندر اندر سے تو پریشان تھیں ۔بابا نے کہاکونسی دوست ہے کال کرو مما نے اس کی قریبی سہیلیوں کو کال کی تو سب نے منع کردیا کہ آنٹی صباء تو یہاں نہیں ہے۔اب دس بج چکے تھے اور سب گھر والے پریشان بیٹھے تھے ۔بھائی ہاسپٹلز دیکھ آیا تھا ۔اب صرف پولیس اسٹیشن جانا رہ گیا تھا۔مما کا رو رو کر برا حال تھا اس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھااور پھر ساڑھے دس بجے بابا کے نمبر پہ کال آئی ۔کوئی رکشے والا تھا جس نے بتایا کہ ان کی بیٹی اس کے رکشے میں بے ہوش ہوگئی تھی اس کے موبائل سے نمبر لیا ہے اور وہ فلاں ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں ہے۔جب وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے تو رکشے والا وہاں موجود نہیں تھا اور اب اسکا نمبر بھی بند تھا۔نرس نے صباء کا موبائل انہیں دیا جو شاید بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکا تھا۔ اب یہ تو صباء ہی بتا سکتی تھی کہ ماجرا کیا ہے۔وہ کافی

فکرند تھے اور خود کو ہی کوس رہے تھے کہ ہمارے لاڈ پیار نے ہماری اولاد کو کتنا آزاد کردیا ہے۔تین دن ہوگئے تھے صباء کو گھر آئے ہوئے۔وہ بس ایک جگہ دیکھتی رہتی ۔۔اسے ق۔برستان میں گزرا ایک ایک لمحہ ،عباد کی ق بر،کندھے پہ کسی کا ہاتھ رکھنا۔اسکا بے ہوش ہوجانا۔پھر ہاسپٹل کے بیڈ پہ ہوش میں آنے سے پہلے کا دیکھا گیا خواب بار بار تنگ کرتے۔وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر چیخنے لگتی ۔مما مسلسل اس کے روم میں رہنے لگی تھیں۔مگر اس سے کوئی سوال نہیں کرتا ۔ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا کہ اس پہ۔کسی قسم کا پریشر نہ ہو۔ آنٹی میں آپ کو کب سے بتانا چاہ رہی تھی مگر ہمت نہیں ہوئی۔کچھ دن سے اسکی کسی عباد نامی لڑکے سے دوستی تھی۔ہم نے اسے بہت سمجھایا کہ کسی انجان سے رابطہ نہ کرو ۔مگر وہ مانی ہی نہیں۔صباء کی دوست آج اس سے ملنے آئی تو کچھ دیر پہلے مما کے پاس بیٹھی ۔۔مما اپنی بیٹی کے بارے میں یہ سب جان کر بہت شرمندہ تھیں۔وہ رونے لگیں اور اس دن وہ عباد سے ہی ملنے جارہی تھی ۔ہم سب کو بہت خوشی خوشی بتایا تھا ۔اب پتہ نہیں ہوا کیا ۔مما نے روتے روتے کہا ۔وہ کچھ بتاتی بھی نہیں ۔ہم خود پوچھ نہیں سکتی ۔پتہ نہیں میری بچی کو کس کی نظر کھاگئی ندا صباء کے پاس بہت دیر بیٹھی مگر صباء نے اس سے کوئی بات نہ کی تھک کر وہ واپس آگئی۔صباء کی مما نے ہمت کرکے اس کے بابا اور بھائی کو سب بتادیا ۔صباء کا بھائی

عادل تو آپے سے باہر ہوگیا۔ لے کر آئیں اس کا موبائل میں چھوڑوں گا نہیں اس لڑکے کو نمبر دیں اسکا ۔ آپ لوگوں کو کہتا تھا ۔مگر میری کوئی سنتا ہی نہیں مہنگے مہنگے موبائل ۔اکیلی نکل جانا بہت ڈھیل دی تھی نا اب بھگتیں۔لوگ طرح طرح کی باتیں بنارہے ہیں۔ذیشان اور حیدر روز نائٹ ڈیوٹی کے لیئے ساتھ جاتے تھے ۔آج دیر ہونے کے سبب ذیشان نے اسے بائیک ق۔برستان والی روڈ پہ ڈالنے کو کہا ۔پراناق۔برستان آسیبی مشہور تھا اسلیئے یہ رستہ کوئی استعمال نہیں کرتا تھا ۔ہمیشہ حیدر ڈ۔رتا تھا اور ذیشان اس کا مذاق اڑاتا تھا ۔آج واقعی دیر ہوگئی ۔حیدر کو ماننا پڑی ۔جیسے ہی وہ دونوں ق۔برستان کے سامنے سے گزرے ذیشان نے اسے گاڑی روکنے کو کہا ابے پاگل ہوگیا کیا یہاں کہاں رکوارہاحیدر نے بائیک ہلکی کی مگر روکی نہیں۔ ابے میں کہہ رہا ہوں تو روک اس کے انداز پہ حیدر نے بائیک روکی تو اسے بھی گھٹی گھٹی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ذیشان تیزی سے بائیک سے اترا ۔حیدر نے اسے روکا مگر وہ نہ مانا اور ق برستان کے اندر بھاگا ۔حیدر اسے روکتے روکتے خود بھی اس کے پیچھے لپکا۔ان دونوں کے بھاگنے سے قب رستان میں شور اٹھا اور وہ جب چیخوں تک پہنچے تو ایک ادھ کھلی ق۔بر میں ایک لڑکی گھٹی گھٹی چیخیں مار رہی تھی ۔ذیشان اگے بڑھا مگر حیدر نے ہاتھ روکا ۔پر وہ نہیں رکا اور تیزی سے مٹی ہٹانے لگا۔مٹی ابھی لڑکی کے آدھے وجود پہ ہی پڑی تھی ۔حیدر اس کے ارادے دیکھ کر اس کی مدد کرنے لگا۔وہ لوگ لڑکی کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوچکے تھے ۔حیدر بھاگ کر بائیک پہ لٹکی پانی کی بوتل لے آیا لڑکی کے منہ پہ ڈالی اسے کلیاں کروائیں پھر لڑکی بے ہوش ہوگئی۔ایک لڑکی جس کا نام زینب تھا اور وہ ایک فیس بک گروپ کی مشہور رائٹر تھی پرانے قب رستان میں

آدھ کھلی ق بر میں پائی گئی۔ دو راہگیروں نے بروقت ایمبولینس بلواکر اسے ہسپتال پہنچایا ۔بابا کی عادت تھی وہ با آواز بلند خبریں پڑھتے تھے ۔صباء اب کافی بہتر ہوگئی تھی۔وہ نارمل ہوتی جارہی تھی۔مگر اس وقت بابا کے منہ سے یہ خبر سن کر اس نے جھپٹ کر بابا سے اخبار لیا ۔اور اخبار میں دی گئی ق۔برستان اور وہ کھلی ق۔بر کی تصویریں دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔کھلی ق۔بر کے برابر میں بنیق۔بر پہ لکھا ہوا نام واضح پڑھا جاسکتا تھا۔صباء نے ضد پکڑلی کہ اسے اس لڑکی زینب سے ملنا ہے ۔حمید صاحب اسے ہاسپٹل لے گئے صباء نے زینب کے بھائی سہیل کو بتایا کہ وہ زینب کی فین ہے جو کہ سچ ہی تھا صباء بھی اس گروپ میں تھی جہاں زینب لکھا کرتی تھی۔زینب اب بہتر حالت میں تھی وہ بس بے ہوش ہوئی تھی ۔احتیاطا اس کا معدہ واش کردیا گیا تھا تاکہ جو بھی مٹی وغیرہ اندر گئی کو ہو وہ باقی نہ رہے۔صباء نے اس کی ہمت کو سراہا کہ وہ کتنے اعتماد سے بیٹھی ہوئی ہے جبکہ خود صباء کا تو نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا۔تنہائی ملتے ہی صباء نے اپنا تعارف کروایا گروپ کا حوالہ دیا اور اپنے اور عباد کے بارے میں سب زینب کو بتادیا ۔زینب چونکی لیکن اس نے ظاہر نہ کیااور جب صباء نے رکشے والے چاچا کا ذکر کیا تو زینب اس بار اپنے تاثرات چھپا نہیں سکی ۔ وہ تو شکر ہے وہ چاچا اللہ کے نیک بندے تھے وہ وہیں رک گئے ہوں گے اور انہوں نے ہی مجھے ہسپتال پہنچایازینب کے ذہن کے پردے پہ وہ ہی رکشے والا ابھرا جو اسے ق۔برستان لے کر گیا تھااور اسے سمجھایا بھی تھا کہ وہ ق برستان نہ جائے۔لیکن اس نے بس صباء کا ہاتھ تھام کر اتنا کہادیکھو صباء ایک وقت آتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.