چہرے پر خوبصورتی لانے کا نورانی وظیفہ

اللہ تعالی کی سب سے خوبصورت مخلوق انسان ہے کیونکہ اللہ تعالی نے جب بھی انسان کی تخلیق کا کہیں کہیں پر ذکر کیا ہے تو کچھ جگہوں پر اللہ تعالی نے پانچ قسمیں کھائیں اور اس کے بعد انسان کی تخلیق کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نے انسان کو سب سے بہترین سانچے میں پیدا کیا ہے لیکن یاد رہے کچھ لوگ انتہائی خوبصورت

شکل و صورت کے حامل ہونے کے باوجود نورانیت سے اور قدرت کے خوبصورت سے محروم ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ اللہ سے دور ہوتے ہیں اور دنیا کے زیادہ قریب ہوتے ہیں یہ لوگ اپنی ظاہری خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے طرح طرح کی کریمیں استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی یہ لوگ ہیں انہیں ایسی کیا چیز ہے جو ہمیں خوبصورت بناتا ہے اور اس کے اثرات سب سے زیادہ ہمارے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں یاد رکھیں اللہ تعالی انسان کو نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ہے بد نظری سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے احکامات ہے کہ جن پر عمل کیا جائے تو سائنس کہتی ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف انسان کی روحانی اور فزیکل ہیلتھ پر اثر ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انسان کی چہرے پر ایسی خوبصورتی پیدا ہوجاتی ہے کہ ہر کوئی دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ شاید میں پہلی دفعہ کسی خوبصورت انسان کو دیکھ رہا ہوں آج ہم آپ کو ایک وظیفہ بتائیں گے کہ جس کو پڑھنے کے بعد انشاءاللہ آپ کا چہرہ نورانی ہو جائے گا اور اللہ کے فضل سے وہ نورانیت آپ کو نظر آئے گی اور جب آپ اس کو مسلسل پڑھیں گے تو اس کی وجہ سے جو شخص آپ کو دیکھے گا تو یہ ضرور پوچھے گا کہ آپ ایسی کیا چیز استعمال کرتے ہیں یا اسے کیا چیز کھاتے ہیں یا ایسا کیا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا چہرہ خوبصورت نظر آ رہا ہے۔چہرے

کی خوبصورتی کا تعلق آپ کی خوراک سے بھی ہے اس لئے آپ کو چاہئے کہ زیادہ تر گھر کے سادہ کھانوں کو ہی استعمال کیجئے اور ان کی عادت ڈالئے ۔ باہر کے کھانوں سے اجتناب کیجئے۔خوبصورت چہرہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ایسے چہرے جو خوبصورت ہوں لوگ فطرتا ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ان سے ملاقات اور گفتگو کر کے خوش ہوتے ہیں۔ان کے پاس بیٹھنا دلی سکون کا باعث بنتا ہے۔ خوبصورت چہرے میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسی کشش رکھی ہے کی لوگ خود بخود اسکی محبت میں مگن ہو جاتے ہیں۔دل بہانے تلاش کرتا ہے اس خوبرو کو ملنے کے۔میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا تو ایک حدیث پڑھ کر چونک گیا کہ میرے پیارے نبی کیا ہی فطرت شناس تھے۔امام احمد نے فضائل الصحابہ میں ایک حدیث روایت کی ہے جسکی راویہ سیدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین سلام اللہ علیھا ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلبوا الحوائج عند حسان الوجوہ۔ترجمہ۔اپنی ضرورتیں خوبصورت چہرے والوں سے طلب کرو۔خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائ اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.