گردے اور مثانے کی پتھری کا بغیر آپریشن کے علاج

گردے ا نسان کی گیارہویں پسلی کے نیچے کمر کی طرف دو گول عزو ہیں کیونکہ دائیں طرف جگر ہوتا ہے اس لیے دائیاں گردہ بائیں گردے قدرے نیچے واقعہ ہوتا ہے ۔ایک جوان اور تندرست آدمی میں ہر ایک گردہ چار یا پانچ انچ لمبا اور دو انچ تک چوڑا ہوتا ہے ۔ اس کا وزن دوسوگرام سے لیکر تین سو گرام تک ہوتا ہے ۔ عورتوں

کے گردے جو ہیں وہ مردوں کی نسبت چھوٹے ہوتے ہیں گردے غذا کے رقیب حصے کو جگر سے حاصل کرتے ہیں اور اپنی غذا ان میں سے لیکر باقی صاف پانی کو مثانے میں جمع کردیتے ہیں۔ اس طرح جب مثانہ پانی سے بھر جاتا ہے اس کی نالی کا منہ کھل کر پیشاب بن کر خارج ہوجاتا ہے ۔ بہت زیادہ ٹھنڈہ پانی پینے سے بدپرہیزی سے زیادہ چاول کھانے سے پالک اور ٹماٹر کے زیادہ استعمال سے پیشاب روکے رکھنے کی عادت کیوجہ سے گردے میں پتھری بن جاتی جو انتہائی تکلیف دیتی ہے ۔ عموماً ایک گردے میں بنتی ہے ۔ دونوں گردوں میں بھی دیکھی گئی ہے ۔ پتھری سے گردوں کے فیل میں رکاوٹ آجاتی ہے پیشاب جل کر بہت تکلیف سے آتا ہے بار بار آتا ہے لیکن قطرہ قطرہ کرکے آتا ہے ۔ اگر پتھری نوک دار ہو تو اس پیشاب میں خون کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے ۔ مریض درد سے بے حال ہوجاتا ہے اگر وقت پر اس کا علاج نہ کیا جائے تو گردوں کے ناکارہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ ہم آپکو تجربہ شدہ نسخہ بتا رہے ہیں جو ناصرف میرا آزمودہ ہے بلکہ اور بھی طبیبوں نے اس کو استعمال کرایا ہے اور اس کا رزلٹ بہت اچھا ہے ۔ یہ معمولی سا نسخہ ہے لیکن انشاء اللہ اس سے مریض جو درد سے بے حال ہو فوری طور پر اس کو آرام آجاتا ہے ۔ آپ نے خربوزے کے چھلکے کو سائے میں خشک کرلینا ہے ان کا باریک پاؤڈر بنا لینا ہے اگر چھلکے کا سفوف 100گرام ہے تو

قلمی شورہ بیس گرام اور جوخار بیس گرام اس کو ملا کر رکھ لیں اگر سردیاں ہیں تو ایک چمچ آپ نے گرم پانی اور اگر گرمیاں ہیں تو ٹھنڈے پانی میں حل کر کے پلا دینا ہے ۔ایک بہت مشہور طبیب تھے بہت زیادہ لوگ ان کے پاس آتے تھے اور وہ گردے کا علاج بھی بہت اچھا کرتے تھے ۔ ان کا ایک بتایا ہوا نسخہ جو مریضوں کو بتاتے تھے وہ آپ کو بتائیں گے ہم نے کئی مریضوں کو بھی استعمال کرایا ہے انہوں نے اس کی بہت تعریف کی ہے ۔ جنگلی کبوتر کی بیٹھ اکٹھی کرلیں ۔ اب اس کے اندر سبز رنگ کا مادہ جما ہوا لینا ہے سفیدی پھینک دینی ہے ۔ اس کو بلکل پتھر کھرل میں باریک کرلینا ہے اور ایک نمبر کیپسول لیکر اس میں آپ نے دوائی بھر لینی ہے ۔روزانہ ایک کیپسول شربت بزوری کے ہمراہ لینا ہے یہ وہ نسخہ جو وہ بتایا کرتے تھے۔ جو نسخہ بتایا ہے وہ کلتھی کے دال کے جوشاندے سے دیتے ہیں۔ اس کا جوشاندہ کیسے بنانا ہے آپ نے چوبیس گرام آپ نے کلتھی کی دال لینی ہے اس کو خوب اچھی طرح صاف کرنی ہے اس کو تین پاؤ پانی میں پکائیں جب پانی ایک پاؤ رہ جائے تو آدھا صبح اور آدھا شام مریض کو پلائیں ۔صبح اسکو کیپسول کے ساتھ دینا ہے اور شام کو اس کا صرف جوشاندہ پلانا ہے ۔ پتھری ریزہ ریزہ ہوکر باریک ہوکر نکل جائیگی ۔ پتھری کے مریض کو پانی زیادہ پینا چاہیے ۔ ٹماٹر ،پالک ، چقندر سے مکمل پرہیز کرنی چاہیے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.