پانچ آدمی کبھی خوش نہیں رہ سکتے ؟

پانچ قسم کے انسان ایسے ہیں۔ جو کبھی خوش نہیں رہ سکتے : دھو کہ دینے والا، سودکھانےوالا، ملاوٹ کرنے والا ، جھوٹ بولنے والا ، غریبوں اور یتیموں کا مال کھانے والا۔ مجھے محکمہ سیٹلمنٹ میں ملازم ہوئے ابھی چند یو م ہوئے تھے ایک دن حسب معمول دفتر میں کام کر رہا تھا۔ کہ ایک بڑے میاں آئے ، اور

نہایت خو شامدانہ لہجے میں مجھ سے کہنے لگے : بیٹا میرے مکان کا کلیم گم ہوگیا ہے۔ اور عدالت میں مجھے اس کی نقل پیش کرنی ہے۔ اس لیے اپنے ریکارڈ سے کاپی نکال دو تاکہ اس کی نقل کرو ا کر عدالت میں پیش کرسکوں پچاس روپے لگیں گے ، میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا؟جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں پچاس روپے کہاں سے لاؤ؟ اس نے مردہ سی آواز میں جواب دیتے ہوئے کہا: جیب خالی ہے تو میں کیا کروں؟ میں نے تلخ لہجے سے جواب دیا ، اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا، کچھ دیر بعد سراٹھا کر دیکھا ، تو وہ جاچکے تھے ، دوسرے روز میں ابھی دفتر میں داخل ہوا ہی تھا ، کہ وہی بڑے میاں آئے ، اور پچاس روپے میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے : کہو بابا جی اب تو کام ہوجائےگا قبل اس کے کہ میں اس بارے میں انہیں کچھ جواب دیتا!میری نظریں ان کے چہروں پر پڑی ، بڑے میاں کی

آنکھوں سے آنسو نکل کر داڑھی میں جذب ہورہے تھے، اور وہ انہیں صاف کرنے کی کوشش میں مصروف تھے میں نے رونے کی وجہ پوچھی ، پہلے تو وہ ٹال مٹول کرتے رہے ، میر ے اصرار پر انہوں نے بتایا کل یہاں سے جا کر جوان بیٹی کےکان کی بالیاں جومیں نے چند آنے روزانہ کی بچت کرکے شادی کے لیے بنوائیں تھیں۔ فروخت کردیے تاکہ آپ کا خرچ پورا کرسکوں۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکے ، میں نے اٹھ کر نائل سے اس کی کاپی نکال کردی، اور وہ روپے ان کی جیب میں ٹھونس دیے ، ان کے جاتے ہی میں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی رشوت نہ لوں گا، مجھے محسوس ہو رہا تھا۔ کہ جیسے بڑے میاں کے بوڑھے اور کمزوربازوں نے مجھے دوزخ کےدھانے سے کھینچ لیا ہے۔ کیونکہ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے : رشوت لینے والا او ردینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مال کے ذریعے لوگوں کو خوش نہیں کرسکتے ، لہٰذا خندہ پیشانی اور حسن خلق کے ذریعے لوگوں کو خوش رکھا کرو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.