مرنا تو اس جہان میں کوئی حاد ثہ نہیں اس دور ناگوار میں جینا کمال ہے

مرنا تو اس جہان میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ناگوار میں جینا کما ل ہے۔ میرے نظریات مجھے تنہاء کرتے ہیں۔ منافق ہوجاؤں تو ابھی بھیڑ لگ جائے۔ جانے کب کس سے کیسے ملنا پڑ جائے کتنے چہرے اٹھائے پھرتے ہیں۔ اب پرندوں سے ناحیوانوں سے ڈر لگتا ہے۔ کیا زمانہ ہے انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔ ہربندہ ہی سیانہ

ہوتا ہے۔ جب تک کہانی اپنی نہ ہو۔ ہمارا اچھا ہونا کوئی مطلب نہیں رکھتا لوگ اپنے حساب سے ہی چلتےہیں۔ منافقوں کو پرکھا ہے۔ ہم نے قریب سے بڑے باآدب لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جو دل میں قیام کرتے ہیں۔ اصل میں یہ جینا ہرام کرتے ہیں۔ خطائیں ہوہی جاتی ہیں۔ ازالے بھی تو ممکن ہیں۔ جسے ہم نے شکایت ہو اسے کہنا ملے ہم سے ۔ جو اک بار نظروں سے اترجائے پھر فرق نہیں پڑتا زندہ رہیں یا مرجائے۔ قبول ہے کہ مجھے جی بھر کر برا کہاجائے شرط یہ کہ جو بھی کہاجائے دل سے کہاجائے۔ میرے مرنے کے بعد جو ہوگی اس قدر پر لعنت ہو۔ جتنے مخلص آپ ہونگے اتنے ہی گھٹیا لوگوں سے آپ کا واسطہ پڑے گا۔ ہم وہ ہیں۔ جو خدا کو بھول گئے ۔ تو میری جان کس گمان میں ہے؟ تماشائیوں کے قہقوں میں آوازیں میرے عزیزوں کی تھیں۔ تم زمانے کی بات کرتے ہو میر ا مجھ سے بھی فاصلہ ہے بہت۔ تھوڑا دل دکھے گا سومعذرت مگر آپ کے ہی لہجے میں بات ہوگی۔ گماں نہیں ہے، یقیں ہے ، میرا یقین کرو کوئی کسی کا نہیں ہے ، میرایقین کرو۔ زندگی سے تھوڑی وفاکیجئے جو نہیں ملتا اسے دفعہ کیجئے۔ بھروسہ صرف رب کی ذات پر کرو۔ لوگوں کاکیا ہے چھوڑ جاتے ہیں یا توڑ جاتے ہیں۔ ایسا بدلا ہوں

تیرے شہر کا پانی پی کر جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو۔ واسطہ نہیں رکھنا تو نظر کیوں رکھتے ہو؟ کس حال میں ہوں زندہ خبر کیوں رکھتے ہو؟ خاموشیوں کو رکھا ہے۔ مزاج میں شامل ہم اس طرح بھی ہوئے احتجاج میں شامل۔ سنا ہوگا کسی سے ۔ درد کی ایک حد بھی ہوتی ہے۔ ملو ہم سے ، کہ ہم اس حد کے اکثر پار جاتے ہیں۔ بخت کے تخت سے یک لخت اتارا ہوا شخص تو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہو ا شخص ۔ اچھا ہوگیا وقت واپس نہیں آتا ورنہ کتنے لوگ بے نقاب ہوتے ۔ آج اداسی اتنی ہے کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے تم بھی نہیں۔ ایک دنیا تھی مجھ سے روٹھی ہوئی تو نے بھی ٹھکرا دیا اچھا کیا۔ کا ش کوئی اپنا بھی ہوتا، جو آنسو صاف کرکے کہتا تیرے رونے سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ تیری خاموشی ڈستی ہے۔ مجھے رگ رگ میں ز ہ ر سا پھیل گیا ہے۔ دئیے دریچے پہ رکھے جسے ضرورت ہو اب انتظار اسے بھی نہیں ہمیں بھی نہیں۔ ہمیں سمجھنے کے لیے کوئی اور لہجہ لاؤ یہ تمہاری واہ واہ اسے آگے کی بات ہے۔ سنا ہوگا کسی سے درد کی ایک حد بھی ہوتی ہے۔ ملو ہم سے کہ ہم اس حد سے اکثر پار جاتے ہیں۔ جیسے کسی مصرے کو تراشا نہ گیا ہو تم ایسے میرے دل کی ادھوری سی خلش ہو۔ وہ یاد کرے ہم کوتو بھولیں کس کو ، ہم ان کو بھلا دیں تو کسے یا دکریں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.