سورہ اخلاص سے 3 دنوں میں رشتہ ہوگیا ۔

کیا آپ کا رشتہ نہیں ہورہا جس کی وجہ سے آپ بہت پریشان ہیں ؟ آج کل ہر کوئی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہے کسی کا ہوتا نہیں تو کسی کا توٹ جاتا ہے تو آج اگر آپ کے ساتھ بھی اسی طرح کا کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس تحریر کو ضرور پڑھیئے اور عمل کیجئے۔آپ روزانہ بعد نماز عشاء کے

اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف کے ساتھ 3 بار سورہ الاخلاص کو پڑھ لیجئے اور پھر پڑھ کر دعا کرلیجئے ویسے تو یہ عمل پورے نوے دن کا ہے مگر خواتین خاص ایام کے دنوں کو چھوڑ کر باقی دن کریں اور دن گن کر بعد میں پورے کر لیں مگر یہ ایک ایسا وظیفہ ہے کہ پورا ہونے سے پہلے ہی رشتہ طے ہوجائے گا۔تیسرے دن ہی سے نتائج ملیں گے آپ بھی کوشش کیجئے اور اگر ہوجائے تو براہ کرام دعا ضرور کیجئے ۔اس دور میں ویسے تو معاشرے کے بے شمار مسائل ہیں۔ ہر فرد، ہر خاندان، ہر طبقے اور ہر خطے کے باسیوں کے مسائل کی نوعیت اور وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں لیکن کنواروں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرنے کا کام ایک مشکل مرحلہ ہے۔ کنوارہ لڑکا ہو یا پھر لڑکی، دونوں کے ہی والدین اور سربراہ اچھے رشتے کی عدم دستیابی سے فکرمند نظر آتے ہیں۔ جب کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں تو پھر زمین کے مکین اتنے زیادہ پریشان کیوں ہیں؟ اگر یہ فیصلے ہمارے بس میں ہی نہیں تو پھر پریشانی کیسی؟اہل علم کا ماننا ہے کہ آسمان پر لوح محفوظ میں ہمارا رشتہ بھی لکھا ہوا ہے، جیسا کہ ہماری تقدیر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہی یہ بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کیا کیا کرنے والا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے بس میں کچھ نہیں۔ انسان کو شعور دیا گیا ہے، جسے استعمال کرکے وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔ اگر یہ فیصلے غلط ہوجائیں اور ان کے نتیجے

میں پریشانی ہو تو اس کا ذمے دار کسی صورت بھی قدرت کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ معاملہ جو بھی ہو، یہ جوان اولاد کے والدین سے بڑھ کر کوئی محسوس نہیں کرسکتا، خاص طور پر وہ والدین جن کے گھروں میں بیٹیاں اس وجہ سے بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں کہ مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔کچھ لوگوں کے مسائل ان کے اپنے ہی پیدا کیے ہوتے ہیں اور کچھ میں قصور دوسروں کا کہہ سکتے ہیں۔ میرے ایک قریبی دوست اس وقت چالیس سال کے قریب ہیں اور ابھی تک شادی کا لڈو اُن کے نصیب میں نہیں ہوسکا۔ حالانکہ میں انہیں سمجھانے کی کئی بار کوشش کرچکا ہوں، ایک دو رشتہ کرانے والوں کی خدمات بھی حاصل کیں، مگر ابتدائی معلومات کے بعد ہی محترم کنوارے صاحب نے کورا انکار کردیا۔ ابھی تک بغیر استری شرٹ پہننا، گھر سے بھوکے آفس جانا اور یہ سوچ کر کہ کون دیکھے گا، شیو نہ کرنا جناب کی عادت ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ ان کے کچھ زیادہ مطالبات نہیں، صرف ایک چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ لڑکی ایسی ہوکہ میں بس دیکھتا ہی رہ جاؤں۔ حسن کی دیوی ہو یا پھر چاند کا ٹکڑا۔ جیسا کہ شعرا کسی تصوراتی دنیا میں جاکر صنف نازک کے حسن کی تصویرکشی کرتے ہیں، قریب قریب یہ بھی ایسی ہی لڑکی کی تلاش میں ہیں۔ ہماری خواہش تو ہے کہ کوئی چہرہ انہیں بھا جائے اور وہ اکلاپے سے نکل کر زندگی کا نیا سفر شروع کرسکیں، مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ڈر بھی ہے کہ اگر وہ اس مطالبے میں تھوڑی لچک نہیں دکھائیں گے تو شاید یہ خواہش ناتمام ہی رہے گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.