م و ت اور حادثات سے حفاظت کا وظیفہ

حضرت طلق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوالدرداءصحابی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کیا آپ کا مکان ج ل گیا۔ فرمایا نہیں ج لا پھر دوسرے شخص نے یہی اطلاع دی تو فرمایا نہیں ج لا پھر تیسرے آدمی نے یہی خبر دی۔ آپ نے فرمایا نہیں ج ل ا ۔ پھر ایک

اور شخص نے آخر کہا اے ابوالدرداءآ گ کے شرارے بہت بلند ہوئے مگر جب آپ کے مکان تک آ گ پہنچی تو بجھ گئی۔ فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ میرا مکان جل جائے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے شام تک اس کو کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی۔ (میں نے صبح یہ کلمات پڑھے تھے اس لئے مجھے یقین تھا کہ میرا مکان نہیں ج ل سکتا)۔ وہ کلمات یہ ہیں۔اَللّٰھُمَّ اَنتَ رَبِّی لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ عَلَیکَ تَوَکَّلتُ وَ اَنتَ رَبُّ العَرشِ الکَرِیمِ مَاشَائَ اللّٰہُ کَانَ وَ مَا لَم یَشَا لَم یَکُن وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّ ةَ اِلَّا بِاللّٰہِ العَلِیِّ العَظِیمِ اَعلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیر وَ اَنَّ اللّٰہَ قَد اَحَاطَ بِکُلِّ شَی ئٍ عِلمًا اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفسِی وَ مِن شَرِّ کُلِّ دَابَّةٍ اَنتَ اٰخِذ بِنَا صِیَتِھَا اِنَّ رَبِّی عَلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ یہ در اصل میرے روزانہ کے معمولات میں سے ہے۔ میں یہ دعا روزانہ پڑھتا ہوں مجھے آج تک کبھی کوئی تکلیف غم پریشانی رکاوٹ بندش اور مشکل نہیں پہنچی ۔ ہر حاسد اور ہر دشمن مجھے سے ہمیشہ دور رہا۔ اور دوسری دعا یہ ہے : اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ التَّرَدِّیْ وَالْھَدْمِ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيْقِ وَاَعُوْذُبِكَ اَنْ يَّتَخَبَّطَنِیَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَاَعُوْذُبِكَ اَنْ اَمُوْتَ فِیْ سَبِيْلِكَ مُدْبِرًا وَّاَعُوْذُبِكَ اَنْ اَمُوْتَ لَدِيْغًا اے اﷲ ! بے شک میں گر کر م رنے، دب کر م رنے ،ڈوب کر م رنے اور ج ل کر م رنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ م وت کے وقت شیطان مجھے اچک لے، اور میں تیری پناہ چاہتا

ہوں اس سے کہ تیرے راستے میں پیٹھ پھیرتے ہوئے م ارا جاؤں ،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میری م وت (زہریلے جانورکے) ڈسنے سے واقع ہو۔مختلف قسم کے ان حادثات کے وقوع کی کثرت کی وجہ سے اس بات کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اپنے طور پر ہزار احتیاط برتنے کے باوجود آپ کسی حادثہ کا شکار ہوجائیں یا جان و مال کے نقصانات کا آپ کو سامنا کرنا پڑے ! الامان و الحفیظ! ایسے حالات میں کوئی ہستی اگر آپ کو ان حادثات سے بچاسکتی ہے تو وہ ہے اللہ رب العزت کی ذات۔بحیثیت مومن ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر اس روئے گیتی پر ایک پتّا بھی نہیں ہلتا اور حالات و اسباب خواہ کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں اگر وہ نہ چاہے تو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ وہ جس طرح حفاظت کے نقشوں میں کسی کی ہل اکت پر قادر ہے ٹھیک اسی طرح ہل اکت کے نقشوں میں حفاظت پر بھی قادر ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کیا جائے اور اسی کی ذات کے اوپر بھروسہ رکھا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی ہمیں یہی تعلیم دی ہے اور ایسے بہت سے اعمال و اذکار بتائے ہیں جن کے ذریعے ہم اللہ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں، اس کی پناہ میں آسکتے ہیں اور اس طرح ح ادثات سے ہماری حفاظت ہوسکتی ہے۔ لیکن افسوس کا پہلو یہ کہ دینی علوم سے دوری کی وجہ سے ہماری اکثریت کو ان کا علم ہی نہیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.