اگر کسی سے ز ن ا ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے مدینے کے دوسرے کنارے ایک عورت سے زور آزمائی کی ۔ میں نے جم اع کے علاوہ سب کچھ کیا ہے۔ چنانچہ میں حاضر ہوں۔ آپ میرے متعلق جو

چاہیں فیصلہ فرمائیں۔ عمررضی اللہ عنہ نےاسے کہا اللہ نے تمہارے پردہ پوشی کی تھی ۔ کاش کہ تم بھی اپنی پردہ پوشی کرتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اور وہ آدمی کھڑا ہوااور چلا گیا۔ چنانچہ نبی پاک ﷺ نے کسی آدمی کو اس کےپیچھا بھیجا تو اسے بلا کر یہ آیت سنائی ۔ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں۔ یعنی نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں ۔ اور یہ نصیحت قبول کرنےوالوں کے لیے نصیحت ہے۔ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ؐ یہ اس کے لیے خاص ہے۔ توآپ ﷺ نے فرمایا : نہیں !۔ بلکہ تمام لوگوں کےلیے ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے ساری امت کے گن اہ قابل معافی ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اعلانیہ گن اہ کرتے ہیں۔ اور اعلانیہ گن اہ کرنا یہ ہے کہ آدمی رات کے وقت کوئی گن اہ کا عمل کرے۔ پھر صبح ہونے پر کہتا پھرے اے فلاں! میں نے رات کو اس طرح اس طرح کیاتھا۔ حالانکہ اللہ نے اس کی پر دہ پوشی کی ہوئی تھی ۔ اور اس نے رات اس طرح بسر کی کہ اس کے رب نے اسے چھپا رکھاتھا۔ اور صبح جب کرتا ہے تو اپنے اوپر سے اللہ کےپردے کواٹھا دیتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی ہوگی ۔ پھر جیسے سنی ویسے اسے آگے پہنچادیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.