رحم کی رسولیوں کا بغیر آپریشن دیسی علاج۔

رحم کی رسولیوں کا آپریشن کرانے کی بجائے یہ نسخہ استعمال کریں، رحم کی رسولیوں کس بنا پر ہوتی ہیں اس کا مکمل علاج اور راہنمائی اس آرٹیکل میں موجود ہےرحم میں رسولیوں کی بہت سی وجوہات ہیں، شادی کا دیر سے ہونا، ایکسرے یا الٹرا ساؤنڈ شعاؤں سے بار بار گزرنا، اسقاط حمل کی ادویات کا استعمال، گوشت

کا زیادہ استعمال اور ہر وقت غصے میں رینا وغیرہ وغیرہ، یہ رسولیاں رحم کے کسی بھی حصہ میں ہو سکتی ہیں آغاز میں یہ رسولیاں مٹر کے دانے کے برابر ہوتی ہیں اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ ان کا سائز بڑا ہو کر انڈے کے سائز کے برابر بھی ہو جاتا ہے۔ رحم میں رسولیوں کی وجہ سے ماہواری کا خون زیادہ اور تکلیف سے آتا ہے، پیٹ کے نچلے حصہ میں درد کا ہونا، لیکوریا کا مرض لاحق ہو جانا، پیٹ کا سائز بڑھ جانا، مباشرت کے وقت درد ہونا، مایوسی اور تھکن کا غالب آ جانا، بلڈ پریشر زیادہ رہنا، جسم پر دانے اور خارش ہونا جبکہ ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ رحم کی رسولیوں کی مریضہ کے ہاں حمل نہیں ٹھرتا اور اگر حمل ہو جائے تو رسولیاں مزید تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں اور حمل ضائع ہو جاتا ہے۔رحم کی رسولیاں رحم کے کسی بھی حصہ میں ہو سکتی ہیں، کچھ رسولیاں درد پیدا کرتی ہیں اور کچھ نہیں کرتیں،کچھ رسولیاں نرم اور کچھ پتھر کی طرح سخت ہوتی ہیں۔ دس میں سے ایک خاتوں اس مرض میں مبتلا ہوتی ہے۔ انگریزی طریقہ علاج میں سوائے آپریشن کے اس کا کوئی حل نہیں ہے لیکن الحمد للہ ہربل طریقہ علاج میں بغیر آپریش کے کامیابی سے رسولیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی

اس مرض کا علاج خود کرنا چاہے تو نسخہ میں بتا دیتا ہوں، بنائیں اور استعمال کریں، اللہ شفا دے گا۔السی کے بیج ایک حصہ اور چھوٹی الائچی آدھی مقدار لے کر ان کا پاؤڈر بنا لیں، روزانہ نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں،دو چمچ شہد اورایک چائے والا چمچ یہ سفوف مکس کر کے استعمال کریں۔ ان شاء اللہ رسولیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور درد، سوزش بھی ٹھیک ہو جائے گی۔ آکسن کا پودا اکھاڑ لیں یا توڑ لیں‘ بیس کلو اس کا وزن ہو۔ اس کو پتوں اور ڈنڈیوں سمیت چھاﺅں میں خشک کریں۔ خشک ہونے پر اس کو جلا لیں۔ بڑا سا گھڑا لیں اس کو پانی سے بھرکر آکسن کی راکھ اس میں ڈال دیں۔ ایک ہفتہ تک صبح و شام لکڑی کے چمچ سے ہلائیں۔ ایک ہفتہ بعد پانی سفید ہو تو اسے آرام سے ململ کے کپڑے میں آہستہ سے نتھار لیں کہ بیٹھی ہوئی راکھ یا تنکا شامل نہ ہو۔ اس کو سٹیل کے دیگچے میں گرم کریں۔ اس کے اوپر کوئی جالا وغیرہ آجائے گا۔پانی ٹھنڈا ہونے پر اس کو دوبارہ ململ کے کپڑے میں چھان لیں تاکہ میل کچیل صاف ہو جائے۔ پھر اس کو سٹیل کے دیگچے میں پکانا ہے۔ پانی خشک ہو کر ایک پاﺅ رہ جائے تو اس میں مسلسل چمچ ہلاتے رہیں۔ یہاں تک کہ سارا پانی خشک ہو کر نمک بن جائے ۔ جلنے نہیں دینا‘ کالا نہ ہونے پائے۔ اس کا رنگ سفید یا آف وائٹ ہو یہ نمک کی ڈلیاں بن جائیں گی۔ دیگچے کے ساتھ چمٹ بھی جاتا ہے ۔ اس کو اکھاڑ لیں ‘ اسے پیس لیں یا گرینڈ کر لیں۔ اس دوائی کو پلاسٹک یا شیشے کی بوتل میں محفوظ کر لیں۔ ڈھکن کبھی کھلا نہ چھوڑیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.