مرد اس عورت کے لیے تڑپتا ہے اپنا گھر بار ماں باپ بھی چھوڑ دیتا ہے جو عورت اسے ؟

عورت مرد کی امیری اورغریبی سے بالکل متاثر نہیں ہوتی وہ تو بس اس بات سے متاثر ہوجاتی ہے۔کہ ایک انسان اس کو کتنی عزت دیتا ہے۔ کچھ عورتیں صرف عزت چاہتی ہیں پیسہ نہیں ۔ دلیل سے ذلیل کیجیےچاہے بے حد کیجیے۔ زندگی کی سب سے بڑی انویسمنٹ ہم کسی انسان پر کرتے ہیں۔ اپنی جوانی کے قیمتی

سال محبت کے نام پر دے دیتے ہیں۔ اور بد لے میں کیا ملتا ہے نہ ختم ہونے والی اداسی عمر بھر کا روگ اور پل پل لمحے لمحے کا انتظار۔ جب مرد کسی عورتے سےمحبت کرتا ہے اور اسے پا نہیں سکتا اور وہ کسی اور نکاح میں چلی جاتی ہے۔ تو یقین مانیے ہر رات وہ سینکڑوں باریہ سوچ کر مرتا ہے۔ کہ اس کی محبت کسی اور کسی دسترس میں ہے۔ کسی اور کو حاصل ہے اور اس پر اس کاکوئی حق نہیں ۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ جب ہمیں کوئی درخت گرانا ہوتا ہے تو ہم اس کوکاٹے نہیں ہیں ۔ بلکہ اس کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ اس کے سامنے دوسرے درختوں کو پانی دیتے ہیں۔ توجہ دیتے ہیں اس کی دیکھ بھا ل کرتے ہیں۔ اور اس درخت کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اور وہ درخت اپنے آپ مرجھا جاتا ہے۔ پھر اس گھن لگتا ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے ختم ہوجاتا ہے۔ غو ر کیجیے یہی رویہ مرد عورت کے ساتھ بھی کرتا ہے جو پہلے ہم توجہ دیتے ہیں وقت دیتے ہیں۔ ان کی پرورش کرتے ہیں۔ اورجب ان سے جان چھڑانی ہو تو ان کونظر اندازکردیتے ہیں۔ اس طرح وہ رشتے بھی دھیرے دھیرے م و ت کے اس منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں زندہ یا مردہ برابر ہوتے ہیں۔ صدقہ دینے کےلیے مصیبت کا انتظار مت کرو۔ اس مرد کی اوقات ایک کتے کے برابر ہے۔ جسے دیکھ کر ایک عورت اپنا رستہ بدل لے۔ وفا کا

تعلق مرد یا عورت سے نہیں اس کا تعلق طبیعت تربیت اورنیت سے ہے۔ صبح کی نیند انسان کے ارادوں کوکمزور کرتی ہے۔ منزلوں کو حاصل کرنے والے کبھی دیر تک سویانہیں کرتے۔ بعض اوقات ہم انہی لوگوں کے ہاتھوں اپنا مذاق بنواتے ہیں۔ جن کو ہم کمزور لمحوں میں اپنی ذات کی سچائیاں سونپ دیتے ہیں۔ منافقت منہ کی بدبو کی طرح ہوتی ہے۔ اپنی کا پتہ نہیں چلتا صرف دوسروں کی بری لگتی ہے۔ اگر ہارا ہوا انسان ہارنے کے بعد بھی مسکر ادے تو جیتنے والا اپنی جیت کی خوشی کھو دیتاہے۔ کسی کا دل نا دکھانا اس نے صبر کرلیاتو تو مشکل میں آ جائے گا۔ بوڑھے لوگ بیماری سے نہیں اکیلے پن اور تنہائی سے مرجاتے ہیں۔ کسی کی خوشی میں شرک نہ ہوں بلکہ اس کی خوشی کی وجہ بن جاؤ اور ہر کسی کے دکھ میں شریک ہوجاؤ نہ کہ اس کے دکھ کی وجہ بنو۔ انسان غیروں سے ملی عزت اور اپنوں سے ملی ذلت کبھی نہیں بھول سکتا۔ مر داس عورت کے لیے تڑپتا ہے۔ اپنا گھر بار ماں باپ بہن بھائی بھی چھوڑ دیتا ہے۔ جو اسے عشق میں دھو کہ دے جائے اور وہ اس کو دوبارہ پانے کےلیے سب کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ صبر ایک ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کے قدموں میں نہ کسی کی نظروں میں پریشانی میں مذاق اورخوشی میں طعنہ مت دو کیونکہ اس سے رشتوں میں موجود محبت ختم ہوجاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.