جب بیماریاں آپ کو تھکا دیں اور ڈاکٹرز بھی جواب دے دیں

یہاں ہر بندہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ میری خواہشات پوری کیوں نہیں ہوتی ہر طرف پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں نا امیدی میرا مقدر بن چکی ہے بیماریوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں یہ ایسا عمل ہے کہ تمام بیماریاں اور مشکلات حل ہوجائیں گی رزق میں وسعت ہوجائے گی۔غیب سے روٹی روزی ملنے کی خواہش میں انسان محنت بھی

کرتا ہے اور یہ منظر اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتا ہے کہ اس کو اچانک ایسی جگہ سے رزق مل گیا دولت مل گئی کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کرتا یا پھر اس کا کاروبار اچانک پھیل جاتا ہے حیلہ ہی وسیلہ ہے اور دعا بھی ایک وسیلہ اور حیلہ ہے انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہے اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا بھی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اللہ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کے لئے اس کے سامنے کئی امتحانات رکھیں ہیں وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتادیا بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ نے اپنے بندوں کی راہنمائی فرمائی حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتار ا جس کا علاج اس کے ساتھ نہ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے بس انسان کو مانگنے کا ڈھنگ آنا چاہئے اس کی مرادیں بھی پوری ہوجائیں گی اس کی حاجت بھی اس کی دعائیں بھی پوری ہوجائیں گی اس وظیفہ کو اللہ کی حمد و ثنا کے لئے بھی پڑھاجاتا ہے انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات بھی اللہ کی تسبیحات کرتی ہیں تسبیح میں جنت کی آبادی بھی ہے کہ ایک بار سبحان اللہ پڑھنے سے اپنی ملکیت کا ایک درخت لگ جاتا ہے درخت بھی معمولی نہیں

بلکہ صدیوں کی مسافت تک پھیلاہوا تسبیح میں حشر کے دن کا سامان بھی ہے ارشاد فرمایا کہ سبحان اللہ آدھے میزان کو بھر دیتا ہے اور باقی کو ا لحمدللہ بھردیتا ہے ایک بزرگ کے پاس ایک شخص نے روزی کی تنگی کی شکایت کی انہوں نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ ایک سو بار پڑھ وہ صاحب زندہ دل انسان تھے زندہ دل وہ ہوتا ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اور جو دل کی توجہ سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو انہوں نے دل کی توجہ سے یہ عمل شروع کیا مگر ایک ہفتہ بعد ان بزرگوں کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ وظیفہ بند کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کیونکہ اب تو زمین کے خفیہ خزانے بھی نظر آنے لگے ہیں تو جو لوگ عقل مند ہوتے ہیں وہ خزانوں کا مالک بننے سے ڈرتے ہیں کہ کون سنبھالے گا کون اتنی فکر اٹھائے گا کون اتنا حساب دے گا کون اتنے حقوق ادا کرے گا انسان کی ضرورت تو کچھ مال سے پوری ہوجاتی ہے اس سے زائد مال اس لئے ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے ذریعے سے بڑے بڑے درجات حاصل کرلے اور اگر یہ نیت نہ ہوتو ضرورت سے زائد مال انسان کو مسلسل ڈستارہتا ہے ذلیل اور کمزور کرتارہتا ہے پاگل اور نااہل بھی بنادیتا ہے ۔آپ بھی اس عمل کو کیجئے انشاء اللہ آپ کو بھی زمین کے خزانے بھی نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.