سعودیہ میں جنات کے کھودے 300کنویں دریافت حضرت سلیمانؑ کے غلام جنات نے یہ کیوں کھودے تھے

معجزات زمانہ روزبروز کسی نہ کسی صورت میں آشکار ہوتے ہی رہتے ہیں حال ہی میں ایک معجزہ نما کنواں سامنے آیا ہے جس کو دیکھ کر یہ با ت سامنے آئی کہ اس جیسے تین سو کنویں اور بھی ہیں اور ان کو کسی اور نہیں کھودا بلکہ سلیمان ؑ کی حکومت میں انکی پیروی کرتے تھے اورانکا ہر حکم بجا لاتے تھے۔ آج ہم آپ

کو سعودیہ عرب کے تین سو کنووں کے بارے میں بتائیں گے اس سے پہلے آپ کو نہیں پتہ ہوگا۔ان کنووں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد 300ہے اس بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تمام تر کنویں انسان طور پر کھدے ہوئے نہیں لگتے ۔یعنی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کنویں انسانوں کے کھدے ہوئے ہیں بلکہ یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کوئی لایانی طاقت تھی جس نے ان کنووں کو کھودا کیونکہ یہ سخت پتھر کے بنے ہوئے کنویں ہیں ۔سخت انتہائی پتھریلی زمین کو کھودنا انسان کی بس کی بات نہیں تھی ۔ ان کنووں کے بارے میں بات کی جائے تو یہ کنویں کسی حد تک لمبائی میں زیادہ ہیں ویسے ان کا دہانا اتنا چوڑا نہیں ہے ۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے یہ تمام تر کنویں اس وقت کھودے گئے تھے ۔جب حضرت سلیمان ؑ کی جماعت تھی جو فوج کے جو لوگ تھے انہیں پیاس لگ رہی تو تب یہ کنویں کھودے گئے تھے۔حضرت سلیمان ؑ کےبارے میں کون شخص نہیں جانتا ۔تمام لوگ حضرت سلیمان ؑ او رانکی قدرت کے بارے میں جانتے ہیں انہوں نے کس طرح دعا کی تھی اور انکی دعا قبول ہوئی تھی ۔جو جنات کو نہیں مانتے انہیں جان لینا چاہیے کہ لازمی طو ر پر جنات کو وجود ایک حقیقت ہے ۔اس قرہ ارض پر دو ایسی

مخلوقات ہیں جن کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس انبیاء کرا م اور رسول مبعوث فرمائے ان کیلئے سزاوجزا کا تصور پیش کیا یعنی آخرت اللہ تعالیٰ کی یہ مخلوقات جنات اور انسان ہیں ۔جنات کی دنیا اسرار کے پردے میں چھپی رہتی اور جنات انسان کی نظروں سے پوشیدہ کردیئے گئے ۔ زمین پر انسانوں کو اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے جنات کو مختلف جزائراور ویران جگہوں پر مقیط کردیا گیا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ انسان کو زمین پر اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سردار ابلیس کو بارگاہ میں طلب فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ فرشتوں میں شمار ہوتا تھا اس کو رب تعالیٰ نے اس قدر علم عطاء کررکھا تھا اس علم کی بنیاد پر فرشتوں کا سردار بنا ۔ ابلیس کو حکم دیا گیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کیساتھ زمین پر اُترو اور جنات جو زمین پر فساد اور لڑائی جھگڑوں میں مصروف ہیں انہیں ویران جزائر اور پہاڑی غاروں میں قید کردیا جائے جو ایک خاص مقررہ وقت تک قید رہیں گے ابلیس بارگاہ الٰہی سے حکم لیکرفرشتوں کی ایک جماعت کیساتھ میدان پر اترا اور جنات کو نہایت قلیل وقت میں مختلف ویران جزائر اور پہاڑی غاروں

اور ویرانوں میں قید کردیا گیا۔ یہ حضر ت سلیمان ؓ کے دور قید میں رہے اور پھر مشیعت رب کے تحت انہیں آزادی ملی اور پھر دنیا میں چلنے پھرنے لگے ۔ جنات کو قید کرنے کے بعدعرش الٰہی تک ابلیس کا فرشتوں کی جماعت کیساتھ سفر شروع ہوا اور دوران سفر ابلیس کے دل میں غرور اور تکبر میں سر اُٹھایا اور نہایت قلیل وقت میں نہایت طاقتور جنات کو قید کرنے سے متعلق غرور کیا اس کی خبر رب تعالیٰ کو تو ہو گئی مگر دیگر فرشتے اس سے بے خبر رہے روایت میں آتا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب ابلیس نے غرور کیا ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسکے غرور کو تش تشبام کرنے کیلئے آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کردیا کیونکہ جنات کو قید کرنے کے بعد اسکے دل میں غرور وتکبر آچکا تھا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی کی پیداوارمیرااسکا کیا جوڑ کہ میں مٹی کے پتلے کو سجدہ کروں حکم تعالیٰ سے انکار پر ابلیس کو راندہ درگاہ کرتے ہوئے شیطان ٹھہرا دیا گیا حضرت سلیمانؑ کے دور میں مشیت ایزدی اور مقررہ وقت پورا ہوچکا تھا جس کے بعد جنات قید سے نکل کر دوبارہ زمین پر فساد برپا کرنے لگے حضرت سلیمان ؑ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ شیاطین جنات کو قابو کرلیتے اور سزا کے طور پر دوبارہ قید میں ڈال دیتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.