آٹھ شوال والے دن 2 نوافل ایک سورت اس طرح پڑھیں پہاڑ جتنا قرض بھی اتر جائے گا

تمام غموں اور پریشانیوں سے نجات کے لیے، خصوصاً قرض سے نجات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کو بتلائی ہوئی درج ذیل دعا صبح و شام سات سات بار پڑھیں اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ.یا اللہ! میں

تیری پناہ پکڑتا ہوں فکر اور غم سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں کم ہمتی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے ظلم و ستم سے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھلائی ہوئی درج ذیل دعا ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے پڑھیں، اگر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرمادیں گے، ان شاء اللہ اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَّنْ سِوَاكَ.یا اللہ! مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام روزی سے بچا لے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں داخل ہوئے، تو وہاں ایک انصاری شخص بیٹھے ہوئے تھے جن کا نام ابو امامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: اے ابو امامہ! میں تمہیں مسجد میں ایسے وقت میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں جو نماز کا نہیں، (خیریت تو ہے؟)، انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بہت ساری پریشانیوں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کیا

میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھلاؤں جنہیں تم پڑھو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے غم دور کردے گا اور تمارے قرض بھی ادا کردے گا؟ انھوں نے (خوشی سے) عرض کیا: بالکل یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: “صبح اور شام یہ پڑھا کرو: اللهم إني أعوذ بك من الهم و الحزن، و أعوذ بك من العجز و الكسل، و أعوذ بك من الجبن و البخل، و أعوذ بك من غلبة الدين، و قهر الرجال”۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ایسا ہی کیا (جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے میرے غم بھی دور کردیے اور میرا (سارا) قرضہ بھی ادا کردیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مکاتب (غلام) آیا اور کہا : میں اپنا بدلِ کتابت ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں آپ میری مدد فرمائیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھلاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے سکھلائے تھے؟ اگر تمہارے اوپر ایک بڑے پہاڑ کے برابر بھی دین (قرض) ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری طرف سے ادا فرمادیں

گے، آپ نے فرمایا: یہ پڑھا کرو: اللهم اكفني بحلالك عن حرامك، و أغنني بفضلك عمن سواك۔اگر کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اور قرض کی بروقت ادائیگی کی کوئی ممکن صورت نہ دکھائی دیتی ہو تو وہ یہ عمل کرے۔روزانہ نماز عشاءکے بعد چار رکعت نفل نماز قرض کی جلد ادائیگی کی غرض سے اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ فلق پڑھے۔ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ کافرون پڑھے۔ یوں نماز مکمل کرکے سلام پھیرے۔اس کے بعد پھر دو رکعت نماز نفل اس طرح سے پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورة اخلاق پڑھے۔ دوسری رکعت میں تین مرتبہ سورہ العصر اور تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر نماز مکمل کرے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ میں جاکر یہ دعا سات مرتبہ مانگے۔ اس کے بعد سجدہ سے سر اٹھائے اور بیٹھ کر دس مرتبہ یہ پڑھےرب السموت ورب الارض رب العالمین ولہ الکبریاءفی السموات والارض وھو العزیز الحکیم ہر روز بلا ناغہ چالیس یوم تک پڑھے، حق تعالیٰ نے چاہا تو ضرور قرض کی جلد اور بروقت ادائیگی کا انتظام ہوجائے گا اور قرض خواہ بھی اس دوران تنگ نہ کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.