کیا مرد زبردستی اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟

اگر شوہر اس طرح غائب ہوجائے کہ اس کے موت وحیات کا پتہ نہ چل سکے تو بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنا معاملہ قریب کے کسی شرعی پنچایت یا دارالقضاء میں لے جائے، وہ حضرات معاملہ کی تحقیق اور بیوی کو مہلت دینے کے بعد دوبارہ عورت کے مطالبہ پر نکاح کو فسخ کردیں گے۔ اس کے بعد عورت کو عدت وف ات گذارکر

دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔ میاں بیوی کے درمیان کسی قسم کا پردہ نہیں ہے۔جی ہاں! دیکھ سکتا ہے البتہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنا اچھا نہیں۔ط لاق کے بعد جب میں نے عدالت میں بچوں کے خرچ کا دعویٰ دائر کیا تو سب نے میری مخالفت کی۔ کم وبیش ہر ایک کی زبان پر یہی تھا کہ بے کار اپنا وقت ضایع کرنے جا رہی ہو۔ عدالتوں کا حال بھی تم کو معلوم ہے اور اس راستے پر جو خواری اور ذلت مقدر بنتی ہے اس کو جھیلنا بھی ایک عام عورت کے بس کی بات نہیں۔ سب کی باتیں سننے کو تو سن لیں لیکن دل میں مصمم ارادہ باندھ چکی تھی کہ میں عدالت کا دروازہ ضرور کھٹکھٹاؤں گی اور دیکھوں گی کہ پاکستان کے نظام عدل میں بہ حیثیت ایک عورت میرے لیے کیا ہے؟ عدالت سے رجوع کرنے والی میری اس سوچ کو مستحکم کرنے والے بہت سارے ایسے واقعات بھی تھے جن میں طلاق کے بعد بچوں سمیت عورت کی زندگی کو مشکل میں ڈال کر مرد وں نے دوسری شادیاں کیں اور پلٹ کر کبھی بچوں کی خبر نہ لی۔ میں اپنی ایک دوست کی زندگی کے حالات بھی قریب سے دیکھ رہی تھی جو طلاق کے بعد اپنے بھائیوں کے در پر بچوں سمیت پھینک دی گئی اور اس کی زندگی سے رہی

سہی خوشیاں بھی سب کے بدلتے مزاجوں کی نذر ہوگئیں۔ کسی بھی شکوے کے جواب میں وہ، احسانات کی ایک طویل فہرست گنوا کر زبان بند رکھنے پہ مجبور کی جاتی رہی۔اب میرے سامنے دو راستے تھے، اپنی عزت، آزادی اور خودمختاری گروی رکھوا کر میکے کی دہلیز پر بچوں سمیت پڑی رہ جاؤں یا پھر قانون سے مدد مانگوں۔ خواری تو دونوں صورت میں ہی اٹھانی تھی لیکن میں نے نسبتاً کم خواری والے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا۔ اور آج میں پورے اعتماد سے یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کا نظام عدل طلاق کے بعد بھی عورتوں کے مکمل حقوق کا ضامن ہے۔ گھر ٹوٹنے کے بعد پھیلنے والے معاشرتی انتشار کی ایک بڑی وجہ میرے نزدیک مرد اور عورت کا طلاق کے بعد معاملات کو قانونی طریقے سے حل نہ کرنا ہے۔ اور اب وہ مرد جس نے بچوں سمیت گھر سے نکالتے ہوئے کہا تھا کہ سکون کی زندگی گزار ے گا، اب کبھی رابطہ ہو تو کہتا ہے کہ تم نے مجھے عدالت کے چکر میں پھنسا کر خوار کرڈالا ہے۔ میں سمجھتی ہوں بچوں کا خرچ اٹھانا اگر خواری ہے تو یہ تو دنیا کے سب والدین ہی اٹھاتے ہیں، پھر طلاق کے بعد کوئی بھی ایک فریق اس سے بری الذمہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ہوتا بھی ہے تو اسے قانون کی مار مار نا ہی بہترین طریقہ ہےجی ہاں! غسل کرسکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.