زبان کی لکنت اور ہکلا ہٹ دور کرنے کا آ سان علاج

کسی نے ایک مسئلہ بتا یا کہ زبان میں لکنت ہے۔ اور کوئی سبق ہمیں اسکو ل یا مدرسے میں ملتا ہے وہ یاد بھی نہیں ہوتا آسانی سے یاد کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں تو کوئی ایسا وظیفہ بتا ئیے کہ جس سے زبان کی لکنت بھی دور ہو جائے اور جو بھی سبق ملے با آسانی یاد ہو جائے ۔ زبان کی لکنت کو

دور کر نے اور ذہنی کشادگی کے لیے کوئی بھی سبق کوئی بھی ایسا علم کا باب ہو اسے یاد رکھنے کےلیے قرآنِ مجید فرقانِ مجید سورۃ طحہٰ آیت نمبر پچس تا آٹھائیس۔ قَالَ رَبِ اشرَح لِی صَد رِی ۔ وَیَسِر لِی اَمرِی وَاحلُل عُقدَۃ ً مِن لِسَانیِ ۔ یَفقَھُو قَولِی ۔ دوبارہ سماعت فر ما ئیے۔ آیت نمبر پچس تا آٹھا ئیس۔قَالَ رَبِ اشرَح لِی صَد رِی ۔ وَیَسِر لِی اَمرِی وَاحلُل عُقدَۃ ً مِن لِسَانیِ ۔ یَفقَھُو قَولِی ۔ اگر کوئی روزانہ فجر کی نماز کے بعد اس آیت کو اکیس مرتبہ پڑ ھے تو اللہ تعالیٰ اسے ذہنی کشادگی عطا فر مائے گا جو بھی سبق یاد کرے گا اسے یاد رہے گا جو بھی سبق پڑ ھے گا اس کے ذہن میں تازہ رہے گا اور زبان کی لکنت بھی جو ہے وہ دور ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ذہنی کشادگی عطا فر ما ئے۔زبان میں لکنت یعنی بولنے میں دشواری ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجو ہات معلوم کر نے کے لیے ما ہرین صدیوں سے ریسر چ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لا کھوں انسان لکنت کا شکار ہیں جو ان کے لیے شر مندگی کا باعث بنتی ہے لکنت یا ہکلا نا، بو لنے میں ایک ایسا مسئلہ

ہے جس میں آواز یا الفاظ کو بار بار دہرانا یا بولتے ہوئے لمبا کر دینا شامل ہے جس سے بو لنے میں رکاوٹ آ تی ہے۔ اور سننے والے کو سمجھنے میں مشکل کا سا منا کر نے کے علاوہ بو لنے والے کو شر مندگی اٹھا نا پڑ تی ہے ماہرین اس مرض کی مختلف وجو ہات بتاتے ہیں۔ ان مطابق یہ مرض پیدائشی بھی ہو سکتا ہے۔ اور نفسیاتی مسائل کے باعث مخصوص حالات میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ بعض افراد کسی پریشان کن صورتحال میں بھی ہکلانے لگتے ہیں جو جزوی ہوتی ہے۔ اکثر ان مریضوں کی لوگوں کے سامنے بات کرتے ہوئے یا فون پر بات کرتے ہوئے یہ علا مات شدت اختیار کر جاتی ہیں۔ اور انسان زیادہ ہکلانے لگتا ہے، جبکہ پڑ ھتے اور اکیلے میںبات کرتے ہوئے یہ ہکلا نا عاضی طور پر کم ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ بچوں میں ہوتا ہے جب ان کی عمر دو سے پانچ سال کی بیچ ہو تی ہے اور وہ بو لنے میں مہارت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ تمام بچوں میں سے پانچ فیصد بچے زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہکلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ لڑ کیوں کی نسبت لڑکوں میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *