وہ مبارک تسبیح جس کو جو بھی

آپ کو وظیفہ بتاتے ہیں ۔ جو کہ بہت ہی پیارا وظیفہ ہے ۔ اس وظیفے کو فجر کی نما ز کے بعد یا پھر رات کو سونے سےپہلے اس وظیفہ کو کرلیں۔ آپ نے یہ وظیفہ سو دانوں والی تسبیح پر کرنا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ دو رکعت نماز صلوۃ الحاجات پڑھ کر یہ وظیفہ کیا جائے۔ جائے نماز پر باوضو ہوکر بیٹھ جائیں ۔ اور سب سے

پہلے درود پاک پڑھیں۔ اور تسبیح کے ہردانے پر یہ کلمات پڑھنے ہیں۔ وہ کلمات ” ھو اللہ الذی لا الہ ھو القھار یا وھاب یا رزاق”ہیں۔ آپ نے تسبیح کے ہردانے پر یہ کلمات پڑھنے ہیں۔ یوں ایک تسبیح مکمل کریں۔ اور اسی طریقے سے دوسری تسبیح مکمل کریں۔ اور آخر درود پاک پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ اپنے لیے دولت مانگیں۔ رزق مانگیں۔ رزق میں فراقی اور وسعت مانگیں۔ دو تسبیح کا بھی عمل کرسکتے ہیں۔ تین تسبیح کا بھی عمل کرسکتے ہیں۔ جتنی تعداد زیادہ بڑھائیں گے ۔ اتنا جلدی فائدہ حاصل ہوگا۔ انشاءاللہ! اتنا جلدی ہی آپ کو فائدہ ملے گا۔ آخر میں آپ کو رزق کی فراقی اور تنگی سے جڑے ایک واقعہ سناتے ہیں۔ جو کہ حضور اقدس ﷺ کے دور کا ہے۔ اس واقعے کے بارے میں اس طرح نقل کی گئی ہے۔ کہ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کرنے لگا ۔ یا رسول اللہﷺ ! میں بہت غریب ہوں۔ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ میں امیر ہوجاؤں۔ اور مجھے غربت سے نجات مل جائے۔ توآپ ﷺ نے اس شخص کو چاول کھایا کرو۔ تو وہ شخص یہ ارشاد سن کر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک او رشخص آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ ! میرے پاس اتنی دولت ہے کہ مجھ

سے سنبھالی نہیں جاتی ۔ مجھے ایسا عمل بتائیں کہ میری دولت کم ہوجائے۔ تاکہ میں اس کو سنبھال سکوں۔ تو اس کو بھی حضوراکرمﷺ نے فرمایا: چاول کھایاکرو۔ تمہار امسئلہ حل ہوجائےگا۔ وہ شخص کچھ دیر بعد بھی چلاگیا۔ تو باقی اصحاب نے آپ ﷺ سے عر ض کیا کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ کہ جو شخص غریب تھا اس کو بھی چاول کھانے کو کہا۔ اور جو امیر تھا اس کو بھی چاول کھانے کو کہا۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: یادرکھو ! کہ انسان جب چاول بناتا ہے۔ تو اس کے کھانے میں چاول کا ایک دانہ ایسا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی رحمت اور برکت والا ہوتا ہے۔ غریب کو چاول کھانے کےلیے اس لیے کہا جو شخص غریب ہے وہ تھوڑے سے چاول خرید سکے گا۔ اور چاول بہت تھوڑی مقدار میں پکا سکے گا۔ توکھائے گا تو ایک ایک دانہ سنبھال کرکھائےگا۔ تو اس طرح وہ رحمت وبرکت والا دانہ اس غریب شخص کے پیٹ میں چلا جائےگا۔ اور یہ اس کے لیے اس کے رزق میں برکت کا سبب بنے گا۔ جبکہ جو شخص امیر ہے وہ چاول زیادہ مقدار میں پکائےگا ۔ اور جب کھانے کےلیے چاول نکالے گا۔ تو بھی زیادہ نکالے گا۔ کچھ کھائےگااور کچھ ضائع کردے گا۔ اس طرح سے وہ اس دانے کو ضائع کردے گا۔ جو برکت اور رحمت والا دانہ ہوگا۔ لہٰذا اس کے رزق سے برکت ختم ہوجائےگی۔ اور اس کے رزق میں کمی کا سبب بنے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *