یہ دعا صرف 1 ہی بار پڑھنی ہے

آج آپ کو ایک ایسی دعا بتانے جارہے ہیں جس کو یادکرکے آپ ہر طرح کے خطرنا ک اور پرانی سے پرانی بیماری کا علاج بھی کرسکتے ہیں۔ اور کسی بھی قسم کا جراثیم ہے۔ وائرس ہو۔ انشاءاللہ! وہ آ پ کے قریب بھی نہیں آئے گا۔ یہ بہت ہی پیاری دعا ہے۔ مومن آدمی کوکوئی کانٹا چبھتا ہے۔ کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ اس کے

بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔ اور اس کا ایک گن اہ مٹا دیتاہے۔ جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر میں جاتا ہے۔ اس کے تما م نیک اعمال لکھ لیے جاتے ہیں۔ جو وہ حالت قیام اور تندرستی میں کیا کرتا تھا۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: بخار کو برا نہ کہو۔ کیونکہ بخار بنی آدم کے گن اہوں کو اس طرح دور کرتا ہے۔ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دو ر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیماری ایک نعمت ہے۔ اس کے سبب انسان کے گن اہ مع اف ہوجاتے ہیں۔ لیکن افسوس ! لوگ جہالت کے سبب دکھ یا بیماری می شکوے شروع کردیتے ہیں۔ جب کوئی بیماری پہنچتی ہے۔ جب کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ سے شکوے شروع کردیتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر دنیا میں سزائیں دے دیتا ہے۔ جب کسی بندے کی برائی چاہتا ہے تو اس کی سز ا گن اہوں کےساتھ محفوظ رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے قیامت کے دن پوری پوری سز ا دے گا۔ ہمارے اور آپ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺنے بیماریوں کاذکر فرمایا اور فرمایا : کہ مومن جب بیمار ہو پھر اچھا ہوجائے تو اس کی بیماری گن اہوں سے

کفارہ ہوجاتی ہے۔ اور منا فق جب بیمار ہو اور جب اچھا ہوجائے یعنی تندرست ہوجائے ا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک اونٹ ہو۔ اس کی مثال اونٹ کی طرح ہے کہ مالک نے اسے باندھا اور پھر کھول دیا نہ اسے یہ معلو م کہ کیوں باندھا اور نہ یہ معلو م کہ کیوں کھولا۔ اس کی بیماری اس طرح سے ہوتی ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بیماری کیا چیز ہے؟ میں تو کبھی بیمار ہی نہیں ہوا۔ آپ ﷺنے فرمایا: ہمارے پاس سے اٹھ جا کہ تو ہم میں سے نہیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب شخص کو دو سال تک کوئی تکلیف نہ پہنچے وہ سمجھ لے کہ اس کا خدا اس سے ناراض ہے۔ بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا: اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا اور تونے میری بیمار پرسی نہ کی ۔ بندہ عر ض کرے گا۔ اے میرے رب! میں تیری بیمارپرسی کیسے کرتا تو تو رب العلمین ہے۔ ارشاد ہوگا کہ کیا تجھے نہیں معلو م کہ میرا فلا ں بندہ بیمار ہوا اور اس کی بیمار پر سی نہ کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر اس کی بیمار پرسی کو جاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو نے نہ دیا ۔بندہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار ! میں تجھے کس طرح کھانا دیتا۔ تو تو رب العلمین ہے۔ ارشاد ہوگا : کیا تجھے نہیں معلو م کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا اور تو نے نہ دیا۔ کیا تجھے نہیں معلو م اگر تونے

دیا ہوتا تو اس کو یعنی اس کے ثواب کو میرے پاس پاتا۔ آپ کو دعا بتا دیتے ہیں۔ آپ لوگوں نے کرنا اسطرح سے ہے کہ پاک حالت میں باوضو ہو کر ایک مرتبہ صبح کے وقت اور ایک مرتبہ شام کے وقت یعنی دو دفعہ آپ نے دعا پڑھ لینی ہے۔ یہ دعا پڑھ کر خود پر دم کرلیں۔ اور اپنے گھر والوں پر دم کرلیں۔ اور جس کے لیے دم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے ایک ایک مرتبہ پڑھ کر دم کرلیں۔ انشاءاللہ! کوی بھی بیماری ہو۔ کوئی بھی جراثیم ہو ۔ کوئی بھی وباہو۔ آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔ وہ دعا یہ ہے کہ :”اللھم انی اسالک العافیۃ فی الد نیا والاخرۃ ، اللھم انی اسا لک العفو والعافیۃ فی دینی ودنیا ی واھلی ومالی ، اللھم استر عوراتی وامن روعاتی، اللھم احفظنی من بین یدی ومن خلفی وعن یمینی وعن شمالی ومن فوقی واعوذ بعظمتک ان اغتال من تحتی ” ۔ ترجمہ: یا اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ یا اللہ! میں تجھ سے اپنے دین ، دنیا ا وراہل خانہ سمیت اپنی املاک کے متعلق بھی معافی اور عافیت کا درخواست گزار ہوں۔ یا اللہ! میرے عیب چھپا دے ۔ اور مجھے میرے خدشات و خطرات سے امن عطا فرما۔ یا اللہ! میرے آگے ، میرے پیچھے ، میرے دائیں ، میرے بائیں اور میرے اوپر سے میرے حفاظت فرما۔ اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سےپناہ چاہتا ہوں۔ کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلا ک کردیا جاؤں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *