نماز جمعہ میں شریک 3 قسم کے لوگ

آج آپ کے سامنے نماز جمعہ میں تین قسم کے لوگوں کے بارے میں بتائیں گے ۔ کہ تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو نما زجمعہ میں شریک ہوتے ہیں۔ حضرت عبدا للہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایاکہ : نماز جمعہ میں تین طرح کےلوگ آتے ہیں۔ پہلا: وہ شخص

جو جمعہ کےلیے آئے اور خطبہ سننے کے بجائے کسی لغو کام میں مشغول ہوجائے۔ ایسے شخص کو سوائے اخروی نقصان اور گنا ہ کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آج دیکھ لیں مساجد میں ۔ بچے اور لڑکو ں کو کیا کہنا ۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے لوگ بھی ایسے کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ اور ہم اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھتے ہیں۔ دوسرا: وہ شخص جو جمعہ کے لیے آئے اور خطبہ سننے کے بجائے دعا مانگنے میں مشغول ہوجائے۔ ایسے بندہ کامعاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ چاہے اس کو دعا کو قبول فرمائے یا ردفرمائے۔ تیسرا: وہ شخص جو اطمینان اور خاموشی کے ساتھ نمازجمعہ میں آکر شریک ہو۔ اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجائے۔ نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگے اور نہ کسی کو تکلیف پہنچائے۔ ایسے شخص کےلیے یہ جمعہ اگلے جمعہ اور مزیدتین دن یعنی کل دس دن تک گن اہوں کی بخشش یا درجات کی بلندی کا سبب بن جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک صاحب اگلے مہاجرین اور آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (عین خطبہ میں ) اُن کو پکارا بھلا یہ کونسا وقت ہے آنے کا ۔انہوں نے کہا مجھے

کچھ کام لگ گیا تھا۔ میں گھر میں بھی نہیں گیا اذان سنتے ہی بس وضو کیا (اور چلا آیا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا یہ کہتے ہو آپ نے صرف وضو ہی پر قناعت کی۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ (جمعہ کے دن) غسل کا حکم دیتے تھے۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایاجو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک صفائی کرسکتا ہے صفائی کرے اور اپنے تیل میں سے تیل لگائے اور اپنے گھر(والوں) کی خوشبو میں سے لگائے پھر (نمازکے لئے) نکلے (مسجد میں آئے) تو دو کے بیچ میں نہ گھسے پھر جتنی نماز اس کی تقدیر میں ہے وہ پڑھے (یعنی سنت ، نفل) اور جب امام خطبہ پڑھتا ہو اس وقت خاموش رہے تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گن اہ اس کے بخش دےئے جائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس بہترین دن میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے ، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، اسی دن حضرت آدمؑ جنت میں داخل کئے گئے ، اسی دن وہ جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہوگی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *