سچا واقعہ : سجدے میں سر رکھ سورۃ الفا تحہ اسطرح سے پڑھ لیں

ایک نیوز چینل کی اینکر ایک بڑے شہر کے روڈ پر راہ چلتی خواتین سے ان کی معاشی حالت کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ وہ اینکر جس سے بھی پوچھتی کہ آپ کےمعاشی حالات کیسے ہیں۔ تو ہر کوئی مہنگائی کا رونا روتی ۔ ہرکسی کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ جس کی بناء پر گزارہ

نہیں ہوتا۔ اینکر ہر خاتون سے اس کے خاوند یا اس کی آمدن کےبارے میں پوچھتی ۔ کوئی ستر ہزار، کوئی پچاس ہزار اور کوئی تیس ہزار بتاتی۔ مگر بعد میں زبان پر یہی الفاظ ہی ہوتے کہ بچتا کچھ نہیں ۔ اور اس تنخواہ سے بمشکل دس سے پندرہ دن ہی گزارہ ہو پاتا ہے۔ اورپھر دس سے پندرہ دن کی تاریخ کے بعد قرض کے بوجھ تلے اور ادھار کا بوجھ اٹھانا پڑتاہے کیونکہ آمدن کم اور اخراجات بہت زیادہ ہوچکے ہیں۔ پھر اچانک اس اینکر نے ایک راہ چلتی خاتون کو روکا جب اسے پوچھا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ تو اس نے ہاں میں جواب دیا۔ اینکر نے دوبارہ سوال کیا کہ تمہارے خاوند کی تنخواہ کتنی ہے؟ اس نے پرسکون لہجے میں کہا کہ میرے خاوند کی تنخواہ آٹھ ہزار ہے ۔ خاتون کا جواب سن کر ایک دم چونکی کیا واقعی! کیا آپ کےخاوند کی تنخواہ آٹھ ہزار ہے۔ اس خاتون نے کہا میرے خاوند کی تنخواہ آٹھ ہزار ہے؟ جب اینکر نے مزید پوچھا کہ گھر کرائے کا ہے۔ یا اپنا۔ خاتون نے جواب دیا کہ گھر کرائے کا ہے۔ اور گھر ایک کمرے پر مشتمل ہے۔ اور کرایہ 35سو روپے ہیں ۔ اینکر نے پھرسے پوچھا کہ تمہارا گزار ا کیسے ہوتا ہے؟ اینکر نے پھر پوچھا کہ آپ کا گزارہ کیسے ہوسکتا ہے؟ خاتون نے جواب دیا کہ میں بہت خوشحال ہوں۔ اور میرا ان پیسوں میں اچھا گزارا ہورہا ہے۔ اس کا جواب سن کر جہاں اینکر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔ تو اس نے جلدی سے سوال کیا کہ آپ یہ کیا کہہ

رہی ہیں؟ صرف آٹھ ہزار ۔ اگر اس میں پینتیس سو روپے نکال لیے جائیں تو پیچھے صرف پینتالیس سو روپے بچتے ہیں۔ ان 45 سوروپوں میں بھی بجلی کا بل ، پانی کا بل ، گیس کا بل اور دیگر اخراجات نکال دیے جائیں تو بمشکل تین ہزار بھی نہیں بچتے ہوں گے۔ تو آپ گھر کا خرچ کیسے کرلیتی ہوں گی؟ توخاتون نے مسکراتے ہوئے کہا جب میرے شوہر مہینےکی پانچ تاریخ کو اپنی تنخواہ میرے ہاتھ پر لا کر رکھتے ہیں۔ تو میں ان پیسوں پر ایک عمل کرلیتی ہوں۔ بس اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ پورا مہینہ ہمیں برکت اور خوشحالی والی زندگی عطا فرماتے ہیں۔ اس اینکر کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا اور وہ باربار یہ پوچھ رہی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اور غریب عورت سادگی سے کہہ رہی تھی کہ مجھےنہیں معلو م ، بس میرے اللہ میرا خرچ پورا کرتا رہتا ہے۔ اور میں یہی پڑھتی رہتی ہوں ۔ الحمداللہ! میں خوشحال ہوں ۔ خاتون نے مزید کہا کہ یہ عمل مجھے ہماری ایک بوڑھی ہمسائی نے بتایا تھا۔ میں نے خود اس عمل کو تب سے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ اور اس بات کو سات ماہ ہوچکے ہیں۔ جب سے مجھے یہ عمل ملا ہے۔ مجھے خوشیاں خوشیاں ہی ملتی جارہی ہیں۔ فاقے ختم ہورہے ہیں۔ اس عمل کو آپ

بھی ضرور کریں۔ اس عمل کو دن میں کسی بھی وقت کسی خاص نماز کے وقت کر سکتے ہیں۔ اگر چاہیں تو ہر نماز کے بعد بھی اس عمل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل حالت سجدے میں کرنے کا عمل ہے۔ اس لیے آپ نے ایسے وقت میں عمل کوکرنا ہے۔ جب مکروہ اوقات نہ ہوں اور جب نماز پڑھنے کا وقت ہو۔ اس عمل کےلیے آپ نے کوئی سی نماز ادا کرلینی ہے۔ آپ نے وضو کرکے جائے نماز بچھا لینی ہے۔ سب سے پہلے دورکعت نما ز نفل صلوۃ الحاجات کی نیت سے پڑھ لینے ہیں۔ نفل نماز بالکل عا م نمازوں کی طرح پڑھ کر آپ نے سلام پھیر لینا ہے۔ سلام پھیرنے کے بعد وہیں جائے نماز پر بیٹھ کر گیارہ گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے۔ اور اس کےبعد سر کوسجدے میں رکھنا ہے۔ اورحالت سجدہ میں اکیس مرتبہ آپ نے ” سورت الفاتحہ” پڑھ لینا ہے۔ جب یہ پڑھ لیں توآخر میں سجدے سے اٹھ جانا ہے۔ اور سجدے میں اٹھتے ہی دوبارہ سے تین مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر جھولی پھیلا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اپنے رزق کے تمام تر مسائل کے حل کےلیے خصوصی طور پر گڑ گڑ ا کر دعا کرنی ہے۔ اور اپنی حاجات کو مانگنا ہے۔ انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ چند ہی دنوں میں آپ کی تمام مشکلات کو حل فرمادیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *