میاں بیوی کی محبت کے درمیان رات کا وقت کیوں ضروری ہے ؟؟

میاں بیوی کے درمیان رات کا پہر زیادہ اہم ہوتا ہے کیونکہ دونوں میاں بیوی اپنے کام وغیرہ سے مکمل طور پر فارغ ہوچکے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بند کمرے میں وقت گزارتے ہیں اور یقین کریں یہی وہ خوبصورت وقت ہے جس میں اپنی ازدواجی زندگی کو خوب سے خوب تر بنایا جاسکتا ہے ۔اس وقت بیوی کی

باتیں سنی جائیں اور کچھ اپنی باتیں بھی سنائی جائیں بیوی سے دن بھر کے کام کاج کا احوال پوچھا جائے اور دن بھر کے کاموں میں اس کی تعریف کی جائے اس کے ساتھ بیوی کی خوبصورت کی بھی تعریف کی جائے بیوی سے دل لگی کی باتیں کی جائیں اس سے محبت کا اظہار کیا جائے یہ اعمال بہت زیادہ ضروری ہیں کیونکہ دونوں میاں بیوی دن بھر کے کاموں سے تھکے ہارے آرام کے لئے جب کمرے میں آتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے پیار بھرے محبت بھرے الفاظوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ دونوں کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سیدھے ایک دوسرے کے دل میں اُتر تے چلے جاتے ہیں بشرطیکہ دونوں کے درمیان کچھ اور حائل نہ ہو مثلا موبائل،ٹی وی ڈرامہ ،فلم وغیرہ نہ ہوں یہ میاں اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر ایک دوسرے کو پیار اور محبت کے ساتھ وقت دیں دن بھر میاں بیوی اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور ایک رات کا وقت ملتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دیں اور اگر ایسے میں شوہر یا بیوی اپنے موبائل یا ٹی وی میں مصروف رہیں تو محترم معاف کیجئے گا یہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی نہیں بلکہ ایک رسمی

ازدواجی زندگی ہے جہاں بس رسمیں پوری ہو رہی ہیں کہ صبح اٹھے اور اپنے کام پر چلے گئے اور بیوی گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی رات کو آئے کھانا کھایا باہر کا ایک راؤنڈ لگایا یاروں دوستوں سے گپ شپ لگائی پھر گھر آکر موبائل استعمال کرتے کرتے یا ٹی وی دیکھتے دیکھتے سو گئے یقین کریں یہ رسمی ازدواجی زندگی ہے خوشگوار ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو وقت دینا بہت ضروری ہے ایک دوسرے سے دل کی بات کرنا ، ایک دوسرے کا احساس،ایک دوسرے کی قدر،ایک دوسرے سے پیار کی باتیں ،محبت کا اظہار بہت ضروری ہے ۔ کہنے کا مقصد ہے کہ اس جدید دور میں کیبل،گیمز،موبائل وغیرہ نے رشتوں میں بہت دوریاں پیداکردی ہیں میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ موبائل یا کیبل وغیرہ غلط ہیں لیکن بے وقت ان کا استعمال نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ رشتوں میں بھی بہت زیادہ دوریاں پیدا کردیتا ہے میرا مشورہ تو یہی ہے کہ جب بھی اپنے والدین بیوی ،بچوں کے ساتھ ہوں تو ان چیزوں سے مکمل پرہیز کیا جائے جب بھی ماں باپ کے ساتھ ہوں اپنے بچوں کے ساتھ ہوں اپنی بیوی کے ساتھ ہوں تو مکمل ان کو وقت دیا جائے کیونکہ ہمارا فرض ہے ان کو وقت دینا اور اس فرض کی ادائیگی میں ذراسی سستی چیزوں نے رشتوں میں ایسی دوریاں پیدا کردی ہیں جو بعد میں آپ سنبھالیں بھی تو نہیں سنبھلیں گی آپ سے گذارش ہے کہ اپنے رشتوں کی قدر کیجئے ان کو وقت دیجئے تا کہ آپ کی زندگی خوشگوار اور گھر میں سکون ہوجائے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *