حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان : جسم میں یہ نشانی ظاہر ہو تو کوئی آپ کو بہت چاہتا ہے

اکثر اوقات انسان کو کوئی غیر متوقع طور پر کامیابی مل جاتی ہے کہ جس کے بارے میں انسا ن کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ کہ اس کو یہ کامیابی یا خوشی مل جائے گی ۔ اور یہ انسان اس خوشی میں محو ہوجاتا ہے۔ او ریہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا آیا کہ یہ کامیابی یا خوشی مجھے ملی کیوں ہے؟ اس کےپیچھے کیا

وجہ ہوسکتی ہے ؟ آپ کو بتائیں گے کہ کیسے غیر متوقع کامیابیوں اور خوشیوں کےپیچھے کیا وجوہات ہوتی ہیں؟ اور اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کیا فرمان ہے؟ ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں۔جن کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بعض ایسے خوش قسمت ترین لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ جن کےلیے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ آپ کویہ بتاتے چلیں کہ فرشتے کن لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ کہ انسان اپنی بہتری کےلیے دعائیں کرتا رہتا ہے لیکن اس کا ایک عمل ایسا ہےجو اس کو فرشتوں کی دعاؤں کا محو ر بنا دیتا ہے۔ اور حدیث میں انسان کے اس عمل کو بہت پسندیدہ قر ار دیا گیا ہے۔ کہ جب کوئی انسان دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا پر فرشتے بھی اس کے لیے وہی دعا کرتے ہیں۔ اور یہ فرشتوں سے اپنے لیے دعاکرانے کی بہترین تدبیر ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پیٹھ پیچھے مسلمان بھائی کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک فرشتہ دعا کرنے والے کے سر کے قریب مقر ر ہوتا ہے۔ جب کوئی مسلمان بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ مسلمان کے

حق میں تونے جو دعا کی ہے ۔ تیرے لیے اس جیسی ہی نعمت ودولت کی خوشخبری ہے۔ اور جب کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کےلیے خیر وفلاں کی دعا کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کےبندے یہی چیز اللہ تعالیٰ تجھے بھی عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ تیری بھی حاجت پوری فرما۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بہت زیادہ خوشی محسو س کرنے لگو۔ اور آپ کے اندر خوشی کے احساسات زیادہ ہونے لگیں جان لیں کہ کوئی نہ کوئی آپ کے لیے کہیں دعا مانگ رہا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ خوش قسمت انسان و ہ ہے۔ جس کو دوست کی وفا اور ماں کی دعا مل جائے۔ آخر میں آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ سب سے زیادہ قبول ہونےوالی دعائیں کونسی ہیں؟ اس بارے میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ دعائیں ضرور قبول کی جاتی ہیں۔ مظلوم کی، حاجی کی، مریض کی، مجاہد کی او رایک مسلمان بھائی کی دعا دوسرے مسلمان بھائی کےلیے جو اس کے پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے۔ یہ پانچ دعائیں بتانے کے بعد پھر حضور اکرم ﷺ نے یوں ارشادفرمایا: ان دعاؤں میں سب سے زیادہ قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو ایک مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کےلیے اس کے پیٹھ پیچھے دعا کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *