عائشہ ایک پرائیویٹ آفس میں ڈیو ٹی کرنے لگی تھی جس دن لیٹ آ تی تو شوہر

بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور بجلی کے چمکنے اور گرج سے عائشہ کو بہت ڈر لگ رہا تھا آفس میں ہی تھی چھٹی کا ٹائم ہو گیا تھا آفس کے دروازے پہ کھڑی ہو کر بارش کو بر ستے دیکھ رہی تھی گھڑی کی طرف دیکھا ایک گھنٹہ گزر گیا ہے ابھی تک رکشے والے انکل صاحب بھی نہیں آ ئے

مو با ئل پہ رنگ بجنے لگی جلدی سے بیگ سے مو با ئل نکا لا امی کا فون تھا جی اماں اماں پریشانی میں بو لی عائشہ کہا ں رہ گئی ہو شام ہونے والی ہے ابھی تک گھر نہیں پہنچی عائشہ اطمینان سے بو لی اماں بارش بہت تیز ہو رہی ہے ابھی تک رکشے والے انکل نہیں آ ئے اتنے میں رکشہ والا آ گیا اس نے ہارن بجا یا عائشہ ۔ اماں رکشہ آ گیا ہے میں بس اب تیس منٹ تک گھر پہنچتی ہوں اماں دعا دینے لگی اللہ خیر خیریت رکھے میری بچی انکلی جی آپ کہاں رہ گئے تھے۔ پچھلے ایک گھنٹے سے انتظار کر رہی ہوں آ پاک آپ کا نمبر بھی بند آ رہا ہے انکل آہستہ آہستہ سے بو لے بیٹی میں گھر چلا گیا تھا معافی چا ہتا ہوں عائشہ مسکرانے لگی ارے انکل بیٹیوں سے معافی نہیں مانگتے بس دعائیں دیتے ہیں بیٹیوں کو اتنی تیز بارش یہ خوبصورت سا موسم ہر طرف ٹپ ٹپ کر تا ہوا پانی بازار سے گزرتے ہوئے انکل سے کہنے لگی انکل کسی چکن والی دکان کے سامنے رکشہ روکیے گا ذرا اماں کو فون کیا اماں چاول بھگو دیں میں چکن لے کر آ رہی ہوں۔ آج بر یا نی کھانے کا بہت من کر رہا ہے اماں مسکرائی میری چاندنی گھر آ جا ؤ۔ میں نے بر یا نی ہی بنائی ہوئی ہے عائشہ مسکرانے لگی آ ئی لو یو ا ماں جان رکشتہ گھر کے سامنے رکا انکل جانے لگے عائشہ نے پیار سے کہا انکل کھا نا کھا کر جا ئیں انکل مسکرانے سر پہ ہاتھ رکھا بیٹی نہیں اند ھیرا پھیل جا ئے گا موسم بھی بہت خراب

ہے عائشہ نے رکنے کا اشارہ کیا۔ جلدی سے ایک بر تن میں کچھ بر یا نی پیک کی رکشتے والے انکل کو دی انکل گھر جا کر کھا لیجئے گا اپنا خیال رکھیں انکل اللہ حافظ عائشہ بہت ہی اچھی لڑکی تھی اس کی زندگی کا مقصد صرف پیار بانٹنا تھا صرف پیار عجیب تھی کبھی کوئی بہت دکھ بھی دیتا تو مسکرا دیتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اس کے چہرے پہ کبھی دکھ درد اداسی کی ایک جھلک بھی نہ دکھائی دی تھی وہ ہر حال میں خوش رہا کرتی تھی محبت کی باتیں محبت ہی محبت تھی اس کے جسم و جاں میں بر یا نی کی پلیٹ سامنے پڑی ہو ئی تھی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی کھڑ کی کھول رہی تھی بر ستی بارش کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کھڑکی کے شیشے پہ اوس سی ہنی ہوئی تھی بجلی کی چمک سے کچھ خوف بھی آتا تھا۔ کسی محبت زادے ناول کی کچھ لائینز پڑھ رہی تھی ایک لڑکی جس کا رنگ کا لا سا تھا وہ اتنی پیاری بھی نہ تھی سب کہتے تھے اس سے کون شادی کر ے گا بد صورت سی ہے لیکن وہ بہت خوش تھی کیوں کہ وہ جا نتی تھی اسے اللہ نے پر فیکٹ بنا یا ہے کالی سی لڑکی۔ جب بہت سے لوگ اسے بد صورت ہونے پہ ریجیکٹ کر گئے پھر زندگی میںا ایک شہزادہ آ یا رنگ اس لڑ کے کا بھی کا لا سا تھا لیکن وہ دل کا سفید تھا س لڑکی کو اپنی ہم سفر بنا کر سینے سے لگا لیا کالی سی لڑکی کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا میری جان مجھے بہت سے گزنز نے کہا تھا اتنی بد صورت سی ہے نہ کرو شادی اس سے لیکن دل کہتا تھا چہرے کی خوبصورتی ایک دن۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *