جنت کی حور عیناء اور نوجوان کی شہادت کا واقعہ

حضرت ثابت بنانی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت انس بن مالک ؓ کی بارگاہ میں حاضر تھا اتنے میں آپ کے بیٹے جو ابوبکر کے نام سے مشہو رتھے جہاد سے واپس آئے آپ نے ان سے جہاد کی روداد معلوم کرنا چاہی تو انہوں نے جہاد میں پیش آنے والے بہت سے واقعات بتاتے ہوئے کہا ابا جان کیا میں آپ کو اپنے ایک مجاہد

ساتھی کی عجیب وغریب اور ایمان افروز حالت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا ضرور بتاؤ کہا ہمارے لشکر میں ایک خوبرو نوجوان بھی تھا جب ہم دشمن کے بالکل سامنے پہنچ گئے تو حملے کی تیاری میں مصروف ہوگئے اتنے میں اس نوجوان کے یہ الفاظ فضا میں گونجے واہ میری زوجہ عیناء کیسی دلکشی ہے تم میں واہ میری زوجہ عیناء کیا حسن پایا ہے تم نے یہ آواز سن کر ہم فوراً اس کی طرف دوڑے ہم سمجھے کہ شاید اسے کوئی عارضہ لاحق ہوگیا ہے ہم نے پوچھا اے نوجوان کیا ہوا ؟کہا اے مجاہدو سنو میں ہمیشہ اپنے آپ سے یہ کہتا تھا کہ میں ہر گز شادی نہ کروں گا یہاں تک کہ میں کسی غزو ہ میں شہید ہوجاؤں اور اللہ تعالیٰ جنت کی سب سے خوبصورت حور سے میری شادی کردے گا۔میں ہر مرتبہ شہادت کی آرزو لیے جہاد میں شریک ہوتا کئی جہادوں میں شرکت کے باوجود مجھے شہادت کی دولت نہ مل سکی۔ اب اس کے لشکر کے ساتھ جہاد میں آگیا۔راستے میں میرے نفس نے مجھے اس ارادے پر ابھار ہ کہ اگر اس مرتبہ بھی شہادت نہ ملی تو واپسی پر میں شادی کرلوں گا۔ابھی کچھ دیر قبل مجھے اونگھ آئی ۔ میرے خواب میں کوئی آنیوالا آیا اور کہنے لگا تم ہی ہو جو یہ کہہ رہے ہو کہ اگر اس مرتبہ میں شہید

نہ ہوا تو واپسی پر شادی کرلوں گا۔ سنو !اللہ تعالیٰ نے حور عیناء کے ساتھ تمہاری شادی کردی ہے اٹھو میرے ساتھ چلو۔چنانچہ وہ مجھے لے کر ایک انتہائی سرسبز وشاداب وسیع باغ میں پہنچا وہاں کا منظر بڑا ہی دل ربا تھا اس میں دس ایسی حسین وجمیل لڑکیاں موجود تھی کہ اس سے قبل میری آنکھوں نے ایسا حسن نہ دیکھا تھا۔ میں نے کہا شاید ان میں سے کوئی ایک حور عیناء ہوگی ۔ یہ سن کر ان دوشیزاؤں نے کہا ہم تو اس کی کنیزیں ہیں حور عیناء تمہارے سامنے کی جانب ہے ۔میں آگے بڑھا تو ایک بہت خوبصورت اور سرسبز باغ نظر آیا یہ پہلے باغ سے زیادہ حسین وسیع تھا ۔اس میں بیس حسین وجمیل دوشیزائیں تھیں ان کے حسن وجمال کے سامنے پہلی دس لڑکیوں کا حسن بھی پھیکا پڑ گیا تھا میں نے کہا ان میں سے کوئی ایک حور عیناء ہوگی جو اب ملا آگے چلے جاؤ حور عیناء تمہارے سامنے ہے ہم تو اس کی کنیزیں ہیں۔میں آگے بڑھا تو سامنے ایک وسیع وعریض سلطنت اور خوبصورت باغ تھا جو پہلے دو باغوں کی نسبت بہت زیاد ہ پر بہار تھا ۔ اس میں 40ایسی خوبصورت لڑکیاں تھی کہ ان کے سامنے پہلی دوشیزاؤں کی خوبصورتی کچھ بھی نہ تھی میں نے کہا ان میں سے کوئی ایک ضرور حور عیناء ہوگی ۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی پرترنم آواز میں کہا ہم تو اس کی کنیزیں ہیں حورعیناء تمہارے ہے آگے چلے جاؤمیں آگے بڑھا تو اپنے آپ کو یاقوت کے بنے ہوئے ایک خوبصورت کمرے میں پایا جس میں ایک تخت پر سابقہ تمام لڑکیوں سے زیادہ حسین وجمیل نوجوان دوشیزہ موجو د تھی اس کا حسن آنکھوں کو خیرہ کررہا تھا

وہ بڑی شان وشوکت سے تخت پر بیٹھی میر ی جانب دیکھ رہی تھی۔میں نے بے تاب ہوکر پوچھا کیا تم ہی حور عیناء ہو؟اس نے اپنی خوبصورت آواز میں کہا خوش آمدید میں ہی حور عیناء ہوں ۔ یہ سن کر میں نے اسے چھونے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو اس کی مترنم آواز گونجی ٹھہرجائیے ۔ ابھی آپ کے اندر روح موجود ہے ۔ کچھ دیر انتظار کیجئے انشاء اللہ آج افطاری ہمار ے ساتھ کریں گے ۔ میں ابھی اس ہوش ربامنظر میں ہی گم تھا کہ میری آنکھ کھل گئی بس اب میں بہت جلد وہاں پہنچنے والا ہوں۔نوجوان نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ منادی نے پکار کر کہا اے اللہ کے شہسوار ودشمن پر حملہ کرنے کا وقت آگیا اللہ کا نام لیکر اسلام کے دشمنوں پر ٹوٹ پڑویہ سن کر ہم دشمنوں کے مقابلے میں صفیں بنا کر دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔وہ نوجوان بڑی بے جگری سے دشمنوں سے نبرد آزما تھا۔ مجھے اس کی بات یاد تھی میں کبھی سورج کی طرف دیکھتا کبھی اس کی طرف جیسے سورج غروب ہوا اس کی گردن تن سے جدا کردی گئی ۔ وہ راہ خدا میں اپنا سب کچھ قربان کرچکا تھا میں نہیں جانتا کہ سورج پہلے غروب ہوا یا وہ نوجوان پہلے شہید ہوا۔یقیناً اس نے افطاری حور عیناء کے ساتھ کی ہوگی۔حضرت انس بن مالک ؓ نے جب اپنے بیٹے کی زبانی اس نوجوان کی ایمان افروز کہانی سنی تو بے ساختہ دعا گو ہوئے اللہ کی رحمت ہو اس مجاہد پر۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *