جب جسمانی تعلقات ختم ہوجائیں تو میاں بیوی کیا کریں؟

شادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مرد کو عورت کے ذریعے سے سکون ملتا ہے عورت کو مرد کے ذریعے سے سکون ملتا ہے۔دونوں پرسکون ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا رہ کر اور اگر اکٹھا نہ ہوں تو زندگی میں پریشانیاں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اور تمہارے درمیان مودۃ اور رحمت کو رکھ دیا گیا ہے

یہاں قرآن مجید نے دو لفظ استعمال کئے ہیں ایک مودۃ کو اور ایک رحمت کو یہ بھی قرآن مجید کی خوبصورتی دیکھئے کہ مودۃ کا لفظ استعمال کیا گیا میاں بیوی کے لئے جوانی کی زندگی میں کہ جب میاں بیوی کو ایک دوسرے کی بائیولوجیکل ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اور اگر وہ ایک دوسرے سے کسی موقع پر کچھ خفا بھی ہوتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لئے وہ پھر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے بھی ہوجاتے ہیں ان کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کے لئے دونوں کی ایک جسمانی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن جب میاں بیوی بوڑھے ہوجاتے ہیں تو اب ان کو ایک دوسرے کی جسمانی ضرورت کم ہوجاتی ہے اب اس موقع پر وہ کیسے ایک دوسرے کے قریب رہیں اس کے لئے قرآن مجید نے رحمت کا لفظ استعمال کیا کہ تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی بھی ہونی چاہئے گویا یہ بتایاگیا کہ جب تم جوانی سے گزر کر بڑھاپے کی زندگی میں پہنچوگے تو خاوند یہ سوچے کہ میری بیوی نے اپنی پوری جوانی میری خدمت میں گزار دی اب بوڑھی ہوگئی۔ اب مجھے اتنے اچھے گزرے ہوئے وقت کا لحاظ کرنا ہے اور بڑھاپے میں اگر بیوی سے کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو مجھے اس کو معاف کردینا ہے اور دوسری طرف بیوی یہ سوچے کہ یہ خاوند وہ ہے جس نے میرے اور میرے بچوں کے لئے اپنی جوانی لگادی اب یہ بوڑھا ہوگیا اب اگر اس کو غصہ زیادہ آتا ہے یا اس کے اندر بے حوصلگی آگئی تو مجھے اس کے ساتھ گزارا کرنا ہے چونکہ اس نے زندگی کا اتنا اچھا وقت میرے ساتھ گزارا ہے تو ایک دوسرے کے گزرے ہوئے وقت کا لحاظ رکھنا اس کو رحمت کہتے

ہیں ۔ اب دیکھئے اگر ان دو چیزوں کا خیال رکھاجائے تو انسان کی پوری زندگی الفت و محبت میں پیار میں گزرجاتی ہے ۔عورتیں معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوتی ہیں کہیں یہ عورت ماں کی صورت میں ہوتی ہے تو، کہیں بیٹی کی۔ تو کبھی بیوی کی صورت میں ہوتی ہے عورتوں کا معاشرے میں بڑا اہم کردار ہوتا ہےکیونکہ یہ عورتیں اپنی اولادوں کی پرورش کرکے انہیں معاشرے کا فرد بناتی ہیں،اسی وجہ سے ان کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے ایسے اگر یہ عورتیں ماؤں کی صورت میں ہوں اگر اپنی اولادوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہوئے انہیں صلہ رحمی ( رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کا درس دیں انہیں رشتے جوڑنا سکھائیں، رشتہ داروں سے بھلائی کرنا سکھائیں، تو یوں ایک بچہ اپنی ماں کی گئی اچھی تربیت سے جب معاشرے میں ایک اچھا فرد بن کر ابھرے گا تو یقینا ہمارا معاشرہ سدھرسکتا ہے کیونکہ ایک فرد سے ہی تو معاشرہ بنتا ہے جب فرد اچھا ہو تو معاشرہ خود بخود اچھا ہوجائے گا۔ اسی طرح بہنیں بھی صلح رحمی بڑھا کر ثواب کی حق دار بن سکتیں ہیں۔ جیسا کہ آج کل بھائی بہنوں میں چھوٹی موٹی باتوں پر نا اتفاقیاں وغیرہ ہو ہی جاتی ہیں اگر اس صورت میں بہنیں اگر خود آگے بڑھ کر صلح صفائی کی ترکیب بنائیں تو بھی بہتری آسکتی ہے، اسی طرح ساس بہو، کے جھگڑے تو عام ہیں۔ یہ دراصل ہمارے لیے ثواب کمانے کے مواقع ہوتے ہیں، جنہیں ہم نادانی میں کھو دیتے ہیں، اگر معاشرے کی ہر ایک عورت صلہ رحمی کا ذہن بنالے نا تو یہ معاشرہ بہت جلد سدھر سکتا ہے پیاری پیاری اسلامی بہنوں دیکھئے نا صلہ رحمی کا درس تو خود بھی ہمارا قرآن پاک بھی تو دیتا ہے جیسا کہ پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 26 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *