گردے کی پتھری ایک ہفتے میں ختم۔ گردے کی پتھری۔

تربوز بیش بہا فوائد کا حامل پھل ہے جسے اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کے لیے گرمی کا خصوصی تحفہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، طبی ماہر کہتے ہیں کہ اس پھل کے استعمال سے بہت ساری بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔تربوز اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ ہے جس کے اندر بہت سے بیماریوں کے علاج چھپے ہیں، جیسے

کہ گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی ایک بیماری ’یو آئی ٹی‘ زور پکڑ لیتی ہے جس کو دور بھگانے میں یہ معاون ثابت ہوسکتا ہے اس کے علاوہ گردے کی پتھری وغیرہ جیسی بیماریوں پر اس پھل کی مدد سے قابو پایا جاسکتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس پھل کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو شوگر کے مریض نہیں کہا سکتے البتہ اس کے چھلکے سے بنا ہوا سالن ذیابیطس کے مریض آسانی سے کھا سکتے ہیں۔تربوز کے فوائد اور بیماریوں کا اعلاج بتاتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے گردوں میں بار بار پتھری کی شکایت ہوجاتی ہے یا جنہیں یورین کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں وہ اس پھل کا استعمال کریں علاوہ ازیں یہ چہرے اور بالوں کی خوبصورتی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔دوسرے روزسے آدھا لیٹر پانی کو تین حصوں میں تقسیم کر کے صبح ، دوپہر ، شام استعمال کریں، تین دن کے بعد خود کو واضح فرق محسوس ہوگا، موٹاپے میں فرق آئے گا، گردے کی طرف ہونے والا کھچاؤ بھی ختم ہوگا علاوہ ازیں یورین بھی کھل کر ہوگا۔اُن کا کہنا تھا کہ تربوز کا گودا، چھلکے تو فائدے مند ہیں تاہم اس کے چھلکے کے درمیان ہلکے زرد رنگ کی پرت کو اگر سکھا کر رکھ لیں اور پھر اسے چہرے اور بالوں پر لگائیں تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہےتربوز کے چھلکےخربوزے کے چھلکےتربوز کے بیچ بھٹے کے بال کلتی کی دال جڑی بوٹی سرپھوکاطریقہ مشروب تربوز اور خربوزے کے چھلکے کو فرائی پان میں ڈالیں پھر اس میں بھٹے کے بال اور کلتی کی دال، جڑی بوٹی سرپھوکا ملائیں اور تقریباً ڈیڑھ لیٹر پانی ڈال کر پکنے کے لیے چولہے پر چھوڑ دیں، جب یہ پک پک کر آدھا لیٹر رہ جائے تو اسے اتار

کر بوتل میں بھر لیں۔پتھری نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ نہ بنے تو اس کی بھی ادویات لینی چاہئیں۔ نکلنے کے بعد یہ سوچ لینا کہ اب سب ٹھیک ہے مناسب نہیں ہے تاہم اس سے بچاؤ کے لیے اگر لوگ غذائی عادات کا خیال رکھیں تو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔علامات:آغاز میں اس کی علامات کا پتا نہیں چلتا تاہم اگر چلنے پھرنے سے گردوں میں حرکت ہو یا پتھری پیشاب کی نالی میں چلی جائے تو یہ علامات سامنے آتی ہیں: پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب شدید دردایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا ہوا محسوس ہو۔ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو۔ پیشاب کرتے وقت تکلیف کا ہونا۔پیشاب کا رنگ گلابی سرخ یا براؤن ہونا۔بدبودار پیشاب بار بار پیشاب آنا۔ عام معمول سے ہٹ کر پیشاب آنا۔بخار اور سردی لگنا۔پیشاب کی مقدار کم ہوجانا پیشاب آتا تو بار بار ہے لیکن تکلیف سے اور تھوڑا تھوڑا آتا ہے جس سے مریض پریشان ہوجاتا ہےاتنا شدید درد ہونا جس کے باعث ساکت بیٹھنا یا کسی پوزیشن پر لیٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ایسا درد جس کے ساتھ سر چکرائے اور الٹی ہو۔ بخار اور سردی کے ساتھ گردوں کے مقام پر درد ہونا۔ پیشاب میں خون آنا۔پیشاب کرنے میں مشکل کا سامنا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *