چھوٹے بڑے کی بد زبان بند کرنے اور ان کی اصلاح کے لئے

یہ عمل ناجائز طور پر جو گھر میں افراد ایسے ہوتے ہیں جو بدتمیزی کرتے ہیں جیسے کوئی بچے ہیں چھوٹے تو وہ اپنے والدین کی شان میں گستاخی کرتے ہیں یا باز نہیں آتے تو اس سے پھر بدتمیزیوں سے سلسلہ چلتا ہوا گھر کے حالات بھی خراب ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو یہ ایسے افراد کے لئے عمل ہے

صم بکم عمی فھم لایرجعون یہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے اس کا عمل ہے تو اس کے لئے سات دانے کالی مرچ کے لے کر ان کو ہاون دستہ میں کوٹ لیجئے اور اچھی طرح کوٹ کر پاؤڈر تیار کر لیجئے ۔ اور ایک چینی کی پلیٹ پر یہ وظیفہ لکھئے چینی کی پلیٹ لے کر اس کے اوپر لکھیں ناجائز بدتمیزی جو بچے کرتے ہیں یا بڑے بھی ہوں تووہ بلاوجہ اگر کسی جائز بات پر بولتے ہوں وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ ناجائز ہی ہر وقت بولتے ہوں تو یہ ان کے لئے ہے چاندی کی پلیٹ میں کالے مارکر سے تین روز اور تین کالمز کا ایک ٹیبل بنائیے پہلے رو کے تیسرے خانے میں عمی فھم لکھئے اور دوسری رو کے پہلے خانے میں لا یعقلون لکھئے اور تیسری رو کے دوسرے خانے میں صم بکم لکھنا ہے پھر پہلی روکے پہلے خانے میں صم بکم لکھنا ہے اور پھر دوسری رو کے دوسرے خانے میں عمی فھم لکھنا ہے اور پھر تیسری رو کے تیسرے خانے میں لا یعقلون لکھنا ہے اور پھر اسی طرح دوسری رو کے تیسرے خانے میں صم بکم لکھ دیجئے اور پھر تیسری رو کے پہلے خانے میں عمی فھم لکھ دیجئے اور پھر پہلی رو کے دوسرے خانے میں لا یعقلون لکھ دیجئے اب پسی ہوئی کالی مرچوں کو پیس لیجئے اور ان کے پاؤڈر کو اس

پلیٹ میں ڈال کر رکھ دیجئے اور پھر ان کو ان بچوں کے لئے استعمال کیجئے ان کو مختلف کھانے کی چیزوں میں کھلا دیجئے۔آخرت میں اللہ تعالی کی عدالت لگے گی اور میزان عدل قائم کردی جائے گی، لیکن نجات عدل سے نہیں فضل سے ہوگی، اس لئے کہ ہمارے بیشتر اعمال نیت کے کسی نہ کسی کھوٹ کی وجہ سے پہلے ہی مرحلہ پر ضائع ہو جائیں گے۔ ہم جن اعمال پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں گے، ان میں نیت کا کوئی ایسا پوشیدہ فساد نکل آئے گا، جس کی وجہ سے ہمارا ہر عمل برباد ہوتا چلا جائے گا۔ یہ فسادِ نیت، شیطان کی وہ کارگزاری ہے، جو اس دن سامنے آئے گی۔ اس کا خاص میدان عمل ہماری نیت ہی ہوتا ہے اور وہ اسی کو ہدف بناتا ہے، لیکن رحمت خداوندی بخشش کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ان شاء اللہ تعالی ڈھونڈ لے گی، جس سے ہماری نجات ہو جائے گی۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *