ابراہیم کو ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ پورا نہ ہواتھا آپﷺ کے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور اچانک۔۔؟

ابراہیم کی ولادت کے بعد رسول اللہﷺ سیدہ ماریہ قبطیہ ؓ کا بہت زیادہ خیال رکھنے لگے تھے۔ابراہیم نے رسول اللہ کے پہلو میں تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ پورا نہ کیا تھا کہ بیماری لاحق ہوگئی سیدہ ماریہ اپنے لاڈلے بیٹے کی بیماری سے بہت پریشان ہوگئیں۔ دن بہ دن اس کی حالت بگڑتی گئی ۔ایک دن ننھے ابراہیم

کی بیماری شدت اختیار کرگئی اس کی رضاعی ماں کے خاوند افسردہ چہرہ ،کبیدہ خاطر مضطرب وپریشان اور بوجھل قدم اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی کی طرف گئے ۔ اسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ دنیا بھر کا بوجھ ان کے کندھوں پر آگرا ہے ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ یہ غمناک خبر رسول اللہ ﷺ کو کیسے سنائی جائے یہ ایسی اندوہناک خبر تھی کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ان کی جان لے لی جائے لیکن ننھے ابراہیم کو کچھ نہ ہو۔ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے ان کا دل دھڑک رہا تھا آنکھوں سے آنسو جاری تھے جسم کانپ رہا تھا قریب تھا کہ وہ شدت غم سے زمین پر گر جائیں۔انہوں نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اے اللہ کے رسول ننھے ابراہیم پر نزع کا عالم طاری ہے ۔ پھر ان کے صبر کے بندھن ٹوٹ گئے آہ وبکا سے ہچکی بندھ گئی ۔رسول اللہﷺ کو بھی یہ اندوہناک خبر سن کر بہت غم ہوا۔ شدت غم سے آپ نڈھال ہوگئے ۔ رسول اللہ اپنے بیٹے ابراہیم کی آیا کے پاس گئے اس نے اپنی گود میں انہیں اٹھایا ہوا تھا ۔رسول اللہﷺ نے محبت بھرے انداز میں اپنے لاڈلے بیٹے کو دیکھا۔ اس

کے چہرے پر موت کی پرچھائیاں چھائی ہوئی تھیں۔ آپ اس وقت بہت غمگین تھے اگر اس طرح کا غم کسی پہاڑ پر نازل ہوجاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا۔آپ نے اپنے لاڈلے بیٹے کا سینہ چوما اور اللہ تعالیٰ رضا پر راضی رہنے کا بے مثال مظاہرہ کیا ۔ جب ام ابراہیم نے اپنے لخت جگر کو دیکھا تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اسے چومنے لگیں۔اور اس کی حالت زا ردیکھ کر کبیدہ خاطر ہوئیں۔ دل حزن وملال کا شعلہ فگن تھا آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ جسم پر کپکپی طاری تھی بیٹے کے چہرے پر موت کے سائے دراز ہوچکے تھے ۔ سانس اکھڑا ہوا نزع کا عالم طاری تھا۔ جو مقدر میں لکھا تھا وہ ہوکر رہا بیٹے کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی نبی کریمﷺ کا پاکیزہ بیٹا ابراہیم وفات پاگیا ہاں وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔یہ بات لکھتے ہوئے قلم لرزتا ہے دل دھڑکتا ہے آنکھیں آنسو بہاتی ہیں فضائیں سوگوار ہیں ہر کوئی دم بخود گھر کے آنگن میں خاموشی طاری ہے ہر کسی کے دل میں درد والم کی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔سیدہ ماریہ ؓ اگر رسول اللہﷺ کے کمال درجے کی صبر ورضا کی کیفیت نہ دیکھ لیتیں تو شاید یہ صدمہ برداشت نہ کرپاتیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *