ابھی سے عمل شروع کر یں اور ہمیشہ کے لیے ڈاکٹر سے نجات

ہمارے لیے کا مل ِ ایمان کے بعد سب سے اہم چیز صحت مند زندگی کا حصول ہے۔ اس کے بغیر ہم زندگی کی کسی بھی خوشی سے مکمل طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک ہم رب کے حضور عبادت بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتے۔ دولت شہرت اور اقتدار کا نمبر بھی صحت کے بعد آ تا ہے موجودہ دور کا انسان

اس قدر مصروف زندگی گزار رہا ہے کہ اسے اپنی صحت کا خیال ہی نہیں کچھ۔ اسے اپنی صحت کو ٹائم دینے کا وقت ہی نہیں ملتا اور صحت کی طرف سے ٹائم ہی نہیں ملتا۔ اور جب دھیان دیتا ہے تو کافی وقت گزر چکا ہوتا ہے۔کیونکہ جسمانی اعضاء بیمار پڑ چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انسان ابتداء سے ہی خود کو چند صحت کےاصولوں کا پابند بنا لے تو وہ کافی حد تک خود کو بیماریوں سے دور رکھ سکتا ہے اور خود کو صحت مند رکھ سکتا ہے۔انسان خود کو چاق و چوبند رکھتے ہوئے ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک تندرست زندگی کیسے گزاریں؟ کیو نکہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں صحت کے بارے سے کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جو کچھ ہماری روایات میں اس طرح سے شامل ہو گئی ہیں کہ ان سے بچاؤ بہت ہی زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ مثلاً صحت کا تعلق بہت زیادہ کھانے سے جوڑ لیا گیا ہے جو بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ یہاں زیادہ وزن والے انسان کو زیادہ صحت مند خیال جا تا ہے جبکہ پتلے بدن کو کمزور گمان کیا

جاتا ہے۔ یہ پرانے تصورات آج تک راج کر رہے ہیں آ ئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دماغ کو بہتر رکھنے کے لیے مکمل نیند یہ تو سب جانتے ہیں کہ چھ سے آٹھ گھنٹے نیند لینا بہت ضروری ہے مگر نیند نہ لینے سے ذہنی دبا ؤ اور آ نکھوں کی بیماریاں اور معدے کی بیما ریاں یہاں تک کہ معدے کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے پُر سکون نیند لازمی ہے۔امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند دماغی طاقت کو بڑ ھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ نیند نیوروجینسز کی نشو و نما کر تی ہے۔ انسان الفاظ میں یہ طریقہ کار کئی جسم کے ضروری اسباب کو بڑ ھا تا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ خواب دیکھ رہے ہوں اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب آپ گہری نیند میں ہوں۔ تحقیق میں یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ نیند کی ضرورت انسان کو اسی لیے بھی ہوتی ہے کہ دماغ یادداشتوں کو تشکیل دینے کے لیے معلومات حاصل کرے اور ان کو ابھار سکے۔ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو دماغ کا یادداشت ذخیرہ کر نےو الا حصہ متحرک ہو جا تا ہے۔ جسے دماغ کو یادداشتوں کو طو یل عرصے تک یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *