یا اللہ یا حکیم روزانہ پڑھنے سے کیا ہوگا

آپ کو وظیفہ بتا تے ہیں۔ آپ کو اللہ کے دو ناموں کا وظیفہ بتاتے ہیں ۔ وہ دو نام “یا اللہ ، یا حکیم ” ہے ۔ آپ نے ان دونوں اسمائے اعظم کواکٹھا پڑھ کر ایک تصور کرنا ہے ۔ اول وآخر درود پاک پڑھ کر بارگاہ الہیٰ میں دعا کرنی ہے۔ یا د رکھیں ! کائنا ت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے بغیر

مصلحت اورحکمت پیدا کی ہو۔ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائد ہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عمل ہے۔ کائنات میں کوئی چیز بری پیدا نہیں فرمائی ۔ا س لیے ہر چیز اچھی ہے۔ ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی تقوینی مصلحت ضرور ہے۔ البتہ جب ہمیں کسی چیز کی حکمت اور مصلحت کا پتہ نہیں ہوتاتو ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ چیز بری ہے ورنہ حقیقت میں کوئی چیز بری نہیں ہے۔ حتی ٰ وہ مخلوقات جو بظاہرے موذی تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے۔مثلاً سانپ اور بچھو ہیں۔ ان کو ہم اس لیے برا سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات یہ ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں ۔ لیکن کائنات کے مجموعی انتظام کے لحاظ ان میں سے بھی کوئی نہ کوئی حکمت یا مصلحت ضرور ہے۔ ان میں فائدہ موجود ہے چاہے ہمیں پتہ چلے یا نہ چلے ۔ لیکن ان جانوروں میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہے ۔ ہماری ناکامی میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ امام احمد ؒ نے ایک عجب حقائق نقل فرمائی ہے۔ فرمایا ایک مرتبہ دو مچھلیوں کے شکار نکلے۔ ان میں ایک کافر تھا اور دوسرا مسلمان۔ کا فر اپنا جال ڈالتے وقت اپنے معبودوں کا نام لیتا ۔ جس کی وجہ سے ا س کا جال مچھلیوں سے بھر جاتا۔ اور مسلمان اپنا جال ڈالتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتا ۔ لیکن کوئی مچھلی اس کے ہاتھ میں نہ آتی۔ اس کا جال خالی رہتا۔ اسی طرح غروب آفتا ب تک دونوں شکار کرتے رہے ۔ آخر کا ر ایک مچھلی مسلمان کے ہاتھ لگی۔ وہ مچھلی

اس کے ہاتھ سے اچھل کر کود گئی۔ یہاں تک کہ یہ بیچارہ غریب مسلمان شکار گاہ سے ایسے غائب وقاصر خالی ہاتھ لوٹا کہ اس کے ہاتھ کوئی شکا ر نہ تھا۔ اور کافر ایسا کامیاب لوٹاکہ اس کاتھیلا مچھلیوں سے بھر ا ہواتھا۔ اس عجیب وغریب حیرت ناک واقعہ سے مومن کے فرشتے جو اللہ کی طرف سے ہر انسان کی نگرانی پر معمور ہیں۔ سخت افسو س ہوا۔ اور بارگاہ خداواندی میں عر ض کیا اے میرے ر ب ! یہ کیا بات ہے تیر ایک مومن بندہ جو تیرا نام لیتا ہے۔ایسی حالت میں لوٹتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شکار نہیں ہوتا۔ اور تیرا کافر بندہ ایسے کامیاب لوٹتا ہے کہ اسکا تھیلا مچھلیوں سے لبریز ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد ومومن کا اعلی شان محل دکھا دیا۔ جو اس کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے۔ مومن کے فرشتے سے خطاب فرمایا : اے فرشتہ ! کیا اس مقام کو حاصل کرنے کےبعد میرے اس بندہ مومن کو جو رنج و تعجب دنیا میں مچھلیوں کے شکار میں ناکامی کے باعث ہوا تھا۔باقی رہے گا۔ اور کافر اس بدترین اس مقام کو دکھلا کر جو چیزیں اس کو دنیا میں عطا کی گئی ہیں۔ کیا اس جہنم کے دائمی ع ذاب اسے نجات دلا سکتی ہیں۔ فرشتے نے جواب دیا اے میرے پروردگا ر !آپ کی ذات کی قسم بالکل ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ واقعہ سننے کے بعد آپ کو میری بات کو اچھی طرح سمجھ آچکی ہے۔ کہ اگر آپ کوئی وظیفہ کرتے ہیں۔ آپ کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ دنیا میں آپ کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن یا در کھیں ! آخر ت میں ا س کا اجروثواب زیادہ ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *