سورۃ الا خلاص اور آیتِ کریمہ کی اکٹھی طاقت کا مجرب وظیفہ۔ حضرت علی ؓ نے فر ما یا: اللہ کا وعدہ ہے۔

اگر کوئی مسلمان قرآن پاک پڑھنا نہیں جانتا تو سب سے پہلے قرآن پاک پڑھنا ظرورسیکھیں اس کو پڑھنا اپنی زندگی کا میشن بنا لیں جب تک آپ قرآن پاک دیکھ کرپڑھنا نہیں جانتے تب تک سورہ اخلاس یاد کرلیںکیونکہ آج ہمارا سب سے خاص وظیفہ سورہ اخلاص کا وظیفہ ہے اس کے بے شمارفائدے ہیں یہ سورہ الفاظ

میں چھوٹی لیکن فضائل میں پہاڑوں سے بھی وزنی سورۃ ہے یہ سورۃ اللہ تعالی کی توحید بیان کرتی ہے اس سورۃ کو تین مرتبہ پڑھنے سے ایک قرآن پاک کا ثواب ہوتا ہے۔تواس لئے اگرکوئی مسلمان قرآن پاک نہیں ہے پڑھ سکتا تو قرآن پاک پڑھناآج ہم اس مختصر سی سورۃ کے فضائل کے بارے میں بھی بات کریں گے روزانہ سوۃ اخلاص باوضو ہوکردوسوبار پڑھنے سے نو فائدے حاصل ہوتے ہیں اللہ تعالی تین سو غضب کے دروازے بند کردیتے ہیں مثلا دشمنی قہر فتنا ناراضگی اوریہ آپ کومعلوم ہوگا۔ کہ جب اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں تواللہ تعالی انسان سے نعمتوں کو چھین لیتا ہے جب اللہ راضی ہوتاہے تو غضب کے دروازے اللہ تعالی بند کردیں گے توانسان پررحمتوں کے دروازے کھول دے گا اس کے علاوہ دو سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس شخص پر تین سو رحمت کے دروازے کھول دے گا۔رحمتیں ہی رحمتیں برسیں گی اوراس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی تین سو رزق کے دروازے کھول دے گا۔ آج کل ہر شخص روزی کی پریشانی رزق کی پریشانی نوکری کی پریشانی میں مبتلا ہے اس لئے روزانہ دوسو مرتبہ سورۃ اخلاص باوضو ہوکر پڑھیں اللہ تعالی غیب سے رزق عطا فرمائے گا ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا

جوطالب علم ہیں استاد ہیں ان کے لئے یہ وظیفہ بہت ہی زبردست ہے اوراس کا پانچواں فائدہ یہ ہے کہ چھیاسٹھ مرتبہ قرآن پاک پڑھنے کا ثواب ملے گا اوراس کا چھٹہ فائدہ یہ ہے کہ پچاس سال کے گناہ اللہ پاک معاف فرما دیں گے اور ساتواں فائدہ یہ ہے کہ اللہ پاک جنت میں بنگلے عطاء فرمائے گے۔اورہربنگلے کہ سترہزاردروازے ہوں گے دوستو یہ بہت ہی مختصر سا وظیفہ ہے اس کو ضرورکریں اورآٹھواں اس کا فائدہ یہ ہے کہ دوہزار رکعات نفل پڑھنے کا فائدہ ہوگا اورنو فائدہ یہ ہے کہ جب بھی مرے گا جنازے میں ایک لاکھ دس ہزار فرشتے شمولیت کریں گے یعنی جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کو (اس دعا کی برکت سے) غم ومصیبت سے نجات دی، اسی طرح ہم اب مؤمنین کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں، جب کہ وہ صدق واخلاص کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہم سے پناہ مانگیں قرآن وحدیث میں کہیں ان کلمات کو مخصوص تعداد میں پڑھنے کا تذکرہ نہیں، البتہ بزرگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف اعداد بتائے ہیں، ان میں سے کسی بھی عدد کو اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن قرآن وحدیث سے ثبوت کے بغیر کسی عدد کو مستحب نہیں کہا جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) نے جو دعا مچھلی کے پیٹ میں کی تھی، جو مسلمان بھی اپنے کسی مقصد کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالی اس کو قبول فرمائیں گے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *