روزانہ یہ تین کام بس اور پھر

آج آپ کو تین کام ایسے بتائیں گے کہ انشاءاللہ! کوئی بھی شخص ان پر عمل کرکے اپنے گھر کو خوشیوں سے بھر سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کام کو خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیا جائے۔ انسان دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ بیٹھا ہے۔ اور اپنی م و ت کو ایسے بھول چکا ہے۔ جیسے لوگ کسی انجان شخص نے ایک بار مل کر

اسے بھول جاتے ہیں۔ آج کا دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ آدم انسان دنیا کی رنگ رلیوں میں اس طرح کھو چکا ہے۔ کہ دنیا میں آنے کا اپنا مقصد ہی فرموش کرچکا ہے۔ آج ہم نماز بھی ایسے پڑھتے ہیں۔جیسے کسی پر احسان کررہے ہوں۔ جبکہ نماز ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ روز محشر میں پہلا سوا ل بھی نماز کےبارے میں ہوگا۔ ہم سب کو اپنی روز مرہ زندگی میں ہونے والے کاموں کا ایک بار جائزہ ضرور لینا چاہیے ۔اور یہ سو چنا چاہیے کہ ہم کوئی ایسا کام تو نہیں کررہے۔ جس سے ہم اللہ کی ناراضگی مول لے رہے ہوں۔ اس وظیفے میں آپ کو وظیفہ کےساتھ تین کام بھی کرنے ہیں۔ انشاءاللہ! تین کاموں کے ساتھ کیا گیا وظیفہ آہستہ آہستہ گھر میں خوشیوں کی بہار لے کرآئے گا۔ اس وظیفے کی سب سےبڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک بہت ہی آسان وظیفہ ہے۔ جو مردو خواتیں دونوں کرسکتے ہیں۔ یہ وظیفہ اپنی طرز کا منفر د وظیفہ ہے ۔ اس وظیفے کو شروع کرنے سے پہلے اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین کا مل ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے وظیفہ شروع کرنے سےپہلے اپنا ایمان ثابت کرنا ہوگا۔ وہ اس طرح ممکن ہے۔ کہ آپ نے وظیفہ شروع کرنے سےپہلے آپ نے د و دن تک چھ کلمے جو ایمان مفصل عطا کرتے ہیں۔ ان کو بعد نماز فجر پڑھنا ہوگا۔ یہ کلمے دین مدارس اور مساجد سے باآسانی مل جاتےہیں۔ دو دن پڑھنے کے بعد انشاءاللہ! ایمان تازہ ہوگا۔ اور

ایمان ویقین میں پختگی آئے گی۔ وظیفے کو کرنے سے پہلے اس وظیفے کی اجاز ت ہر خاص و عام کو اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ آپ کو وظیفہ بتاتے ہیں جو کچھ اس طرح سے ہے۔ یہ وظیفہ تو بہت آسان ہے۔ لیکن اس وظیفے کے ساتھ آپ نے تین کام کرنے ہیں ۔ وہ یہ ہیں۔ پہلاکام: صبح فجر کی نماز سےپہلے اٹھنا ہے ۔ اور فجر کی نماز لازمی اد ا کرنی ہے۔ اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ نے گھر کے آس پاس اورچھت پر پرندوں اور بے زبان جانوروں کےلیے باجر ہ اور کچھ ایسا کھانے کا بندوبست کرنا ہے۔ جو یہ بے زبان جانور کھاسکتے ہوں۔دوسراکام : گھر پر آنے والے کسی بھی سوالی کو مایوس نہ کریں اور ان کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ بھی ان کو خیرات کر دیں۔ تیسرا کام : کوشش کریں کہ کسی کا دل نہ دکھائیں اور دن بھر تمام کبیرہ گن اہوں سے بچیں۔ نمازوں کی پابندی کریں۔ اور دن میں ایک بار قرآن پا ک کی تلاوت کرنے کا اپنا معمول بنا لیں۔ اور وظیفہ کچھ یوں ہے کہ آپ نے د ن میں ایک مرتبہ نماز عشاء کے بعد سو نے سے پہلے تکیے کو گو د میں رکھ لینا ہے۔ اور اپنا سیدھا ہاتھ سرہانے کی جگہ رکھ کرخاص اس جگہ جہاں آپ سررکھتے ہیں۔ اکیس مرتبہ “سورت البینہ ” کی آیت مبارکہ آٹھ مرتبہ پڑھ کر اپنے اور تکیے پر دم کرنا ہے اور بنا بات کیے سو جانا ہے۔ اس ترتیب کو کم ازکم دو ہفتے کرنا ہے۔ انشاءاللہ ! بہت جلد خوشیاں آپ کے دروازے پر ہوں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *