حضور ﷺ نے فر ما یا: جبرائیل ؑ میرے پاس اترے میرا سینہ چاک کیا پھر زمزم کے پانی سے دھو یا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے

آنحضرت ﷺ نے فر ما یا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی اس وقت میں مکہ میں تھا پھر جبرائیل ؑ اترے اور انھوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے زمزم کے پانی سے دھو یا پھر ایک سونے کا طشت لا ئے اس کو میرے سینے میں رکھ دیا پھر سینے کو جوڑ دیا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے

کر چلے۔ جب میں نے پہلے آسمان پر پہنچا تو جبرائیل ؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھو لو۔ اس نے پو چھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیلؑ پھر انہوں نے پو چھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔ جواب دیا ہاں میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں انھوں نے پو چھا کہ کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا، جی ہاں پھر جب انھو ں نے دروازہ کھو لا تو ہم پہلے آسما ن پر چڑھ گئے وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا ان کے ذہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ با ئیں طرف تھے جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے انھو ں نے مجھے دیکھ کر فر ما یا ، آؤ اچھے آ ئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے میں نے جبرائیل ؑ سے پو چھا یہ کون ہیں؟ انھو ں نے کہا کہ یہ آدم ؑ ہیں۔ اور ان کے دائیں با ئیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور با ئیں طرف کے جھنڈ دو زخی روحیں ہیں اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکرا تے ہیں۔ اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رنج سے روتے ہیں پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا

کہ کھو لو۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پو چھا پھر کھول دیا۔ حضرت انس نے کہا کہ ابو ذر نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ یعنی نبی کریم ﷺ نے آسمان پر آدم ادریس موسی عیسی ؑ اور ابراہیم ؑ کو موجود پا یا اور ابو ذر ؓ نے ہر ایک کا ٹھکا نہ نہیں بیان کیا۔ البتہ اتنا بیان کیا کہ آنحضور ﷺ نے حضرت آدم کو پہلے آسمان پر پا یا اور حضرت ابراہیم ؑ کو چھٹے آسما ن پر ا نس نے بیان کیا کہ جب جبرائیل ؑ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادریس ؑ پر گزرے تو انھو ں نے فر ما یا کہ آؤ اچھے آ ئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی میں نے پو چھا یہ کون ہیں۔ جواب دیا کہ یہ ادریس ؑ ہیں پھر موسی ٰ ؑ تک پہنچا توا نھوں نے فر ما یا آؤ اچھے آ ئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پو چھا یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے بتا یا کہ موسی ؑ ہیں پھر میں عیسیٰ ؑ تک پہنچا انھوں نے کہا آؤ اچھے آ ئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل ؑ نے بتا یا کہ یہ عیسیٰ ؑ ہیں پھر میں ابراہیم ؑ تک پہنچا۔ انھوں نے فر ما یا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل ؑ نے بتا یا کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ابن ِ شہاب نے کہا کہ مجھے ابو بکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابو حبتہ الا نصاری ؓ کہا کر تے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا پھر مجھے جبرائیل ؑ لے کر چڑھے۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *