سانس لینے سے بھی زیادہ ضروری وظیفہ

حسد سے بچنا ہو تو زیادہ سے زیادہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ چونکہ حسد ایسی بلا ہے جو کھا جاتی ہے اور سب سے پہلا گناہ جو آسمانوں میں ہوا ہے وہ حسد ہے کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کی عزت پر حسد کیا اور زمین میں جو پہلا گناہ ہے وہ بھی حسد ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی پر حسد کر کے بھائی کو ق ت ل کیا کہ حسد

اتنا بڑا گناہ ہے اس لئے عربوں کا محاورہ ہے کہ حسد کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا بلکہ اپنے حسد کے اپنے غیظ و غضب میں ہمیشہ مرتا رہتا ہے ۔ہمیشہ سے سنتے آئے تھے کے دنیا کا پہلا قتل ایک عورت کی وجہ سے ہوا۔ عرصہ دراز تک ہم بھی کہانی کو اسی رخ سے سمجھتے تھے۔ خواتین میگزین میں پہلی کہانی بھی لکھی تو اسی موضوع کو زیر قلم لایا۔ پھر بعد میں سوچا کے کیا واقعی عورت کا معاملہ اتنا سنگین تھا کے قابیل اپنے بھائی کو قتل کربیٹھا ؟؟؟ قرآن پاک کھولا ۔ سورۃ المائدہ میں قصہ کچھ یوں بیان کیا گیا تھا۔اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا اس نے جواب دیا اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہےحسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ سکھی لکڑی کو فوری طور پرجلا کر راکھ کردیتی ہے،اب ہم آجائیں قرآن کی چھوٹی صورت سورۃ فلق پر۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ ومن شرحاسد اذا حسد اور میں پناہ مانگتا ہوں حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔ حسد کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ حاسد انسان اللہ

سے بدگمان ہوجاتا ہے اس کی سوچ غلط رخ پر کام کرنے لگتی ہے اور اس کے قول و عمل اور شب و روز کی سرگرمیوں سے خدا کے بارے میں بدگمانی اور ناانصافی کا اظہار ہونے لگتا ہے۔حسد کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کے ایسا شخص تعمیری ذہن و فکر اور اصلاح و فلاح کی کاوش سے محروم ہوجاتا ہے وہ اپنی زندگی کو بنانےمستقبل کو سنوارنے اور صلاح و سدھار کے کام کرنے کے بجائے ہر وقت اضطراب اور بےچینی میں مبتلا رہتا ہے کہ جن کو خدا نے اپنی نعمتوں سے نوازاہے ان کی شخصیت کو مجروح کرے ‘ ان کو نقصان پہنچائے اور ان کی تذلیل کرے اور ان کی اذیت و تکلیف رسانی کا سامان کرے۔ اسی لیے اللہ نے قرآن میں یہ تعلیم دی کے حاسد کے شر سے انسان اللہ سے پناہ مانگے۔ اور اس ایمانی شعور کے ساتھ یہ الفاظ ادا کرے کہ میں جس کی پناہ مانگ رہا ہوں وہ سب پر غالب ہے۔ اس کی قدرت و اقتدار سب پر حاوی ہے۔ اس شر کا بھی وہی خالق ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت اور علم کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ اور حاسد کو چاہیے کے وہ تھوڑی دیر کے لیے یہ سوچے کے جس رب نے فرشتوں اور جنوں کے سامنے انسان کو اہمیت دی اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اسے ایسا کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اللہ کے ہاں اس کی عزت گھٹتی ہوئی محسوس ہو۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *